محرم آگیا، امت کے شہزادے نہیں آئے ۔۔۔۔ شاہ عبدالطیف بھٹائی، ترجمہ: رئیس امروہوی

” محرم آگیا، امت کے شہزادے نہیں آئے” محرم آ گیا امت کے شہزادے نہیں آئے! یہی تقدیرِ یزدان تھی یہی سرِ مشئیت تھا مدینے اور مکے میں بپا شورِ قیامت تھا یہی فدیہ برائے بخششِ افرادِ ملت تھا شہادت کربلا والوں کی کیا تھی‘ رمزِ قدرت تھا محرم آ گیا امت کے شہزادے نہیں آئے! مدینے سے گئے وہ کربلا کی قتل گاہوں میں وہ خونیں قتل گاہیں آج تک فریاد کرتی ہیں حسینی قافلہ صحرا کی جن راہوں سے گزرا تھا وہ راہیں آج بھی اس قافلے کو…

Read More