” محرم آگیا، امت کے شہزادے نہیں آئے”
محرم آ گیا امت کے شہزادے نہیں آئے!
یہی تقدیرِ یزدان تھی یہی سرِ مشئیت تھا
مدینے اور مکے میں بپا شورِ قیامت تھا
یہی فدیہ برائے بخششِ افرادِ ملت تھا
شہادت کربلا والوں کی کیا تھی‘ رمزِ قدرت تھا
محرم آ گیا امت کے شہزادے نہیں آئے!
مدینے سے گئے وہ کربلا کی قتل گاہوں میں
وہ خونیں قتل گاہیں آج تک فریاد کرتی ہیں
حسینی قافلہ صحرا کی جن راہوں سے گزرا تھا
وہ راہیں آج بھی اس قافلے کو یاد کرتی ہیں
وہ منظر پھر کہاں اہلِ مدینہ کو نظر آیا
مدینے کا مسافر کب مدینے لوٹ کر آیا!
محرم آگیا امت کے شہزادے نہیں آئے!
مجھے اے رنگریز اٹھ اور لباس ماتمی پہنا
جلوس سیہ آئینہ ہے جذبۂ غم کا
سیہ ملبوس پہنا دے کہ ماتم دارِ مولا ہوں
نشاں ہے یہ شہیدانِ وفا کے رنج و ماتم کا
محرم آ گیا امت کے شہزادے نہیں آئے!
ہوئی جب رفعتِ اہلِ حرم‘ شہرِ مدینہ سے
فلک پر تیرگی ماحول پر حسرت برستی تھی
رسول اللہؐ کے روضے میں تھا ماتم کا ہنگامہ
سکوں کے واسطے خود فطرتِ عالم ترستی تھی
محرم آ گیا امت کے شہزادے نہیں آئے!
