رمیض نقوی ۔۔۔ اُس وقت اُس جگہ پہ وہی آدمی ملا

اُس وقت اُس جگہ پہ وہی آدمی ملا سورج کبھی تو میری گھڑی سے گھڑی ملا اے چاند اپنے عکس کو پانی میں گھول دے یہ جھیل پُرسکون بنا، روشنی ملا مدت کے بعد خود سے ملاقات ہو گئی مدت کے بعد آج کوئی اجنبی ملا میرے لئے ہی وقت کو یہ وسعتیں ملیں مجھ کو مرا وجود مگر سرسری ملا وہ جون کی "گمان” اٹھا سر کو پھوڑ لے آنکھوں میں خون، خون میں کچھ بے دلی ملا مشہور! خاندان میں ذہنی مریض ہیں جن جن کو بھی شعورِ…

Read More