لہجے ایندھن بن جاتے ہیں غم کا کارن بن جاتے ہیں ہجر میں ٹوٹے دل تو دل کے ٹکڑے درپن بن جاتے ہیں ہر موسم سے مل کر دیکھا نینا ساون بن جاتے ہیں تم سے نیا رشتہ کیا جوڑیں رشتے الجھن بن جاتے ہیں دل میں رہنے والے اکثر دل کی دھڑکن بن جاتے ہیں تو جو کھینچے گول لکیریں میرے کنگن بن جاتے ہیں بات سمیرا سچ پوچھوں تو بھولے ساجن بن جاتے ہیں
Read MoreTag: سمیرا یوسف کی تخلیقات
سمیرا یوسف ۔۔۔ یہاں ہجر میں کچھ خسارہ ہوا تھا
یہاں ہجر میں کچھ خسارہ ہوا تھا وہاں جاں کا نقصان سارہ ہوا تھا ہوا پیار جن سے ہمیں پہلے پہلے نیا عشق ان سے دوبارہ ہوا تھا بنے تھے وہ ہمدرد جس دم ہمارے دکھوں سے غموں سے کنارہ ہوا تھا تری یاد میں تیری تصویر دیکھی یہی ہجر میں غم کا چارہ ہوا تھا جبیں پرمری ہونٹ رکھے جو اس نے نمایاں جبیں پر ستارہ ہوا تھا جدا ہو کے تجھ بن مری جان جینا گوارہ نہیں نہ گوارہ ہوا تھا اسے خودسے کیسے جدا ہونے دیتے دعاؤں…
Read More