لہجے ایندھن بن جاتے ہیں
غم کا کارن بن جاتے ہیں
ہجر میں ٹوٹے دل تو دل کے
ٹکڑے درپن بن جاتے ہیں
ہر موسم سے مل کر دیکھا
نینا ساون بن جاتے ہیں
تم سے نیا رشتہ کیا جوڑیں
رشتے الجھن بن جاتے ہیں
دل میں رہنے والے اکثر
دل کی دھڑکن بن جاتے ہیں
تو جو کھینچے گول لکیریں
میرے کنگن بن جاتے ہیں
بات سمیرا سچ پوچھوں تو
بھولے ساجن بن جاتے ہیں
