دل سے دنیا نکال کر مرے دوست پھر تو مجھ سے سوال کر مرے دوست دیکھ میری جبیں پہ لب رکھ دے میری سانسیں بحال کر مرے دوست عین ممکن ہے کام آ جاؤں رکھ لے مجھ کو سنبھال کر مرے دوست ایک درویش ہنستا جاتا ہے اپنا کاسہ اچھال کر مرے دوست دل کے مفتی سے لا کوئی فتوا ہجر مجھ پر حلال کر مرے دوست
Read More