بچپن کے مکانات بھی مٹ جاتے ہیں اسکول بھی باغات بھی مٹ جاتے ہیں شہروں میں نئے شہر جو ہوتے ہیں طلوع ماضی کے نشانات بھی مٹ جاتے ہیں ……………… گیتی پہ ستاروں نے لگایا پھیرا خالق کی ثنا کرنے لگا دل میرا ساون کی سیہ رات میں دیکھا میں نے شاخوں پہ شجر کی جگنوؤں کا ڈیرا ……………… لفظوں میں صداقت کا یہ جوہر نہ ملا اسلوب کی ندرت کا یہ منظر نہ ملا کیا شوکتِ اظہار ہے، کیا ندرتِ فکر اقبال سا کوئی بھی سخنور نہ ملا …………………
Read MoreTag: فراست رضوی کی شاعری
فراست رضوی ۔۔۔۔ لہو میں اضطراب آئے نہ آئے
لہو میں اضطراب آئے نہ آئے یہ شب یہ ماہتاب آئے نہ آئے منا لے جشنِ نیرنگ تمنا پھر ان آنکھوں میں خواب آئے نہ آئے یہ بستی کور چشموں کی ہے بستی انھیں کیا آفتاب آئے نہ آئے ابھی بے پردہ مت کر حسن اپنا مری آنکھوں کو تاب آئے نہ آئے نکل آ گھر سے باہر پھر یہ بارش دوبارہ بے حساب آئے نہ آئے غمِ ہجراں سے آنکھیں بجھ گئی ہیں وہ چہرہ بے نقاب آئے نہ آئے ہوائے زَر نے دھندلا دی مری روح اس آئینے…
Read More