بھولا نہیں ہوں اصغرِ تشنہ کو آج تک رکھے ہوئے ہوں آنکھ میں دریا کو آج تک ۔ خیمے میں اک چراغ بجھا کر مرا امام للکارتا ہے ظلمتِ دنیا کو آج تک ۔ صحرا میں ایک قافلہ آیا تھا، اس کے بعد صحرا نہیں کہا گیا ، صحرا کو آج تک ۔ کچھ یوں منافقوں سے ہوئے منتقم حسین گالی بنا کے رکھ دیا کوفہ کو آج تک ۔ رہتا ہے میری آنکھ میں اشکوں کا اک ہجوم لشکر سلام کرتے ہیں تنہا کو آج تک ۔ احسان، دینِ…
Read More