بھولا نہیں ہوں اصغرِ تشنہ کو آج تک
رکھے ہوئے ہوں آنکھ میں دریا کو آج تک
۔
خیمے میں اک چراغ بجھا کر مرا امام
للکارتا ہے ظلمتِ دنیا کو آج تک
۔
صحرا میں ایک قافلہ آیا تھا، اس کے بعد
صحرا نہیں کہا گیا ، صحرا کو آج تک
۔
کچھ یوں منافقوں سے ہوئے منتقم حسین
گالی بنا کے رکھ دیا کوفہ کو آج تک
۔
رہتا ہے میری آنکھ میں اشکوں کا اک ہجوم
لشکر سلام کرتے ہیں تنہا کو آج تک
۔
احسان، دینِ حق پہ کیا کربلا میں یوں
مرسل دعائیں دیتے ہیں زہرا کو آج تک
Related posts
-
حفیظ تائب ۔۔۔ حسین ابنِ علی کو امام جانتا ہوں
رموزِ عشق و محبّت تمام جانتا ہوں حسین ابنِ علی کو امام جانتا ہوں انھی کے... -
وصی حسن نقاش ۔۔۔ غمِ حسین میں قد سے بڑے نظر آئیں
پڑے ہوں فرش پہ لیکن کھڑے نظر آئیں غمِ حسین میں قد سے بڑے نظر آئیں... -
کامی شاہ ۔۔۔ چشمِ نم کو دیکھیے، دل کے غم کو دیکھیے
چشمِ نم کو دیکھیے، دل کے غم کو دیکھیے جائیے ہم کو جانیے، جائیے ہم کو...
