نعمان فلک ۔۔۔ ویسے مالک سے یہ شکوہ تو نہیں بنتا ہے

ویسے مالک سے یہ شکوہ تو نہیں بنتا ہے نوجواں بیٹے کا مرنا تو نہیں بنتا ہے رب نے بتلایا کہ میں ہوں مرے موسیٰ ورنہ اس طرح پانی میں رستہ تو نہیں بنتا ہے روز کچھ خواب مری آنکھ میں مر جاتے ہیں تم یہ کیوں کہتے ہو؟ کتبہ تو نہیں بنتا ہے گر بناؤں تو اْمڈ آتی ہیں آنکھیں میری کینوس پر ترا چہرہ تو نہیں بنتا ہے دل بھی پاگل ہے، کہیں پر بھی مچل جاتا ہے ورنہ کچھ لوگوں پہ مرنا تو نہیں بنتا ہے

Read More