سب دلالوں میں طوائف کا دلال اچھا ہے جس طرح کا بھی کسی میں ہو کمال اچھا ہے دیکھ کر شکل طبیبوں کی جب آتی ہے ہنسی وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے جیب خالی ہو تو پھر شہد لگے زہر ہمیں جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے خوش ہو اے دل کے ملے گی تجھے دولت غم کی اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے کوئی احمق ہی نہ مانے گا اگر میں یہ کہوں ساغرِ جم سے…
Read More