جب گیہوں کا دانا جنس کا سمبل تھا، اس کو چکھنے کی خاطر، میں جنت کو ٹھکرا آیا تھا۔ اب گیہوں کا دانہ، بھوک کا سمبل ہے ۔ جس کو پانے کی خاطر، میں اپنی جنت سے باہر ہوں !
Read MoreTag: ڈاکٹر مظفر حنفی
ڈاکٹر مظفر حنفی ۔۔۔ مشرقی چیخیں
عرفی، مرا چہیتا چالیس دن کا بیٹا، آغوش میں ہے میری۔ آنکھیں گھما گھما کر، لاتیں چلا چلا کر جذبے ابھارتا ہے ۔ ہنس کر، ہمک ہمک کر کلکار مارتا ہے ۔ لیکن ذرا سنو تو! کلکار کے عقب سے یہ کون چیختا ہے ۔ عصّو ، مری نہایت خدمت گار بیوی، میں جس کی ہر ادا پر، دل سے فریفتہ ہوں ، عرصے کے بعد، گھر کے جنجال سے بچا کر تھوڑا سا وقت، میرے بستر پہ آ گئی ہے ، سرگوشیوں میں ، پچھلے بارہ برس میں پل…
Read More