اتنا نہ پاس آ کہ تجھے ڈھونڈتے پھریں اتنا نہ دور جا کہ ہمہ وقت پاس ہو
Read MoreTag: ڈاکٹر وزیر آغا
ڈاکٹر سعدیہ طاہر۔۔۔ ڈاکٹر وزیر آغا اور جدید نظم کی پہچان
Abstract The main focus of this essay is the contribution of Dr. Wazir Agha in critical appreciation of various poets who have given a distinct shape to new peom. He traces the evolution of the new poem from Muhammad Hussain Azad and Allama Iqbal to Akhtar-ul-Emaan and Majeed Amjad, from early nineteenth century to the late twentieth century. This is an everlasting contribution of Dr. Wazir Agha to Modern Urdu poetry. ڈاکٹروزیر آغا نے اُردو ادب میں جدید نظم کی پذیرائی ، پہچان اور تحسین کی فضا پیدا کرنے میں…
Read Moreاک کتھا انوکھی ۔۔۔ ڈاکٹر وزیر آغا
اک جنگل تھاگھنی گھنیری جھاڑیوں والابہت پرانا جنگلجس کے اندر اک کُٹیا میںاپنے بدن کی چھال میں لپٹااپنی کھال کے اندر گم صُمجانے کب سےکتنے جگوں سےپھٹے پرانے چوغے پہنےوہ اک خستہ بیج کی صورتبے سُدھبے آواز پڑا تھا! بادل آتےکڑک گرج کر اُسے بلاتےبِن برسے ہی پچھم کی جانب مڑ جاتےہوا دہکتی آنکھیںٹھنڈی پوریں لے کراس کے چاروں جانب پھرتیپر کیا کرتیگیدڑ، مور، ہرن اور بندرسب کُٹیا کے باہر ملتے، سبھا جماتےاس سے کہتے:’’اب تو اُٹھ جاآخری جُگ بھی بیت چکاسورج میں کالک اُگ آئیچاند کا ہالہ ٹوٹ گیادیکھ…
Read More