سلام ۔۔۔ گستاخ بخاری

کوئی تو ایسی بات شہِ کربلا میں ہے اک تذکرہ مدام جو خلقِ خدا میں ہے سجدے میں سر کٹانے کی لذت نہ پوچھیے کیا زندگی کا لطف مقامِ فنا میں ہے بھولا نہیں کسی کو بھی مقتل کا مرحلہ گلدستۂ شہید رہِ کبریا میں ہے نادان اپنے سینے سے آ کر لپٹ گئی رقاصۂ اجل جو قدِ آشنا میں ہے پیغام دے رہی ہے ہوا اذنِ شاہ میں لکھی ہوئی حضور شہادت فنا میں ہے کرتی رہے گی حشر تلک دیں کو سر فراز شبیرؑ ترے خون کی خوشبو…

Read More