ایک ساعت اک صدی ہے اک نظر آفاق گیر اب نظام گردش شام و سحر کافی نہیں
Read MoreTag: Hanif Fauq
حنیف فوق ۔۔۔۔ فضاؤں میں کچھ ایسی کھلبلی تھی
فضاؤں میں کچھ ایسی کھلبلی تھی کلیجہ تھام کر وحشت چلی تھی کبھی اس کی جوانی منچلی تھی کبھی دنیا بھی سانچے میں ڈھلی تھی یہی آئینہ در آئینہ الفت کبھی عکسِ خفی نقشِ جلی تھی نہ چھوڑا سرد جھونکوں نے وفا کو جو شاخِ درد کی تنہا کلی تھی بگاڑا کس نے ہے طبعِ جہاں کو کبھی یہ رند مشرب بھی ولی تھی محیط ہنگامۂ آفاق پر ہے صدائے درد جو دل میں پلی تھی غنیمت جانئے پھر نیم روشن چراغ راہ سے اپنی گلی تھی برا ہو آگہی…
Read Moreحنیف فوق
شیشۂ شب میں بھری ہے فوق جو صہبائے کیف قطرہ قطرہ بھی پیوں تو رات بھر کافی نہیں
Read More