کھل جاسم سم کھل جاسم سم…. کھل جاسم سم کہنے سے بھی غار دہانہ کب کھلتا ہے! میں نے اپنے تشنہ، ترسے گرم لبوں سے نیند کے ماتے تن پر ہلکے ہلکے دستک دی تو کوئی نہیں تھا کنڈلی مار کے بیٹھی دھوپ سے خود کو ڈسوانے کی لذت اب شہوت میں بدل گئی تھی جسم کی وحشت الماری میں اِک ہینگر سے لٹک رہی تھی اس کھڑکی کی انگڑائی میں ایک خزانہ دہک رہا تھا ایک برہنہ مست کنواری خواہش تھی جو اب دو مونہی ناگن بن کرپھن پھیلائے…
Read More