میں اُس کے سامنے خاموش بیٹھا رہتا ہوں
خبر نہیں یہ منافع ہے یا خسارا ہے
Related posts
-
راحت اندوری
رات کی دھڑکن جب تک جاری رہتی ہے سوتے نہیں ہم ذمہ داری رہتی ہے -
راحت اندوری
دن ڈھل گیا تو رات گزرنے کی آس میں سورج ندی میں ڈوب گیا، ہم گلاس... -
راحت اندوری
بہت غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پر جو میری پیاس سے الجھے تو دھجیاں اڑ...
