سلام ۔۔۔ حسن اکبر کمال

سلام 

دربارِ ستم میں ایستادہ
محبوبِ خُدا کاخانوادہ

ممدوح تمام نور پیکر
کیا لکّھے سلام خاک زادہ ؟

تیغوں سے لہو کی دھار جیتے
اللہ کا تھا یہی ارادہ

مقتول کے چہرے پر چمک تھی
تلوار کی آب سے زیادہ

کیا جنگ وہ اقتدار کی تھی؟
اتنی بھی نہیں یہ بات سادہ

حُر جیسے حریف کے لیے بھی
شبّیرؑ تھے کتنے دل کشادہ

تھے شکر بہ لب اسیر و مجروح
حیراں تھا مسافروں پہ جادہ

اک ذبحِ عظیم کا ہے غمخوار
کعبے کا سیاہ یہ لبادہ

بچپن میں ملا جو درس ماں سے
ہے اُس کا ہی یہ سخن اعادہ

تاثیر کمالِ ایزدی ہے
لکّھے ہیں کمال لفظ سادہ

Related posts

Leave a Comment