سلام
حسین ! دیکھ کے حیران ہے خدا تیرا
زمیں پہ معرکۂ صبر آزما تیرا
وہ کون لفظ ہو میں جس سے تجھ کو پرسہ دوں
کہ خاندان ترے آگے لٹ گیا تیرا
میانِ مقتلِ کرب وبلا ،شبِ عاشور
ہر آدمی کو رلاتا ہے رتجگا تیرا
محرم آیا غزالاں بہا رہے ہیں اشک
ہر ایک دشت میں جاری ہے تذکرہ تیرا
خیام جلتے ہوئے کون دیکھ سکتا ہے
علی کی لختِ جگر ،ہائے حوصلہ تیرا
