محسن میتھیو ۔۔۔ بجھا جو دل تو ہر سُو تیرگی ہی تیرگی ہو گی

بجھا جو دل تو ہر سُو تیرگی ہی تیرگی ہو گی
جلاؤ گے دیے بھی تو نہ گھر میں روشنی ہو گی

غمِ دنیا ، غمِ عقبیٰ غمِ ہستی ، غمِ جاناں
بھلا اتنے غموں میں زندگی کیا زندگی ہو گی

نہیں تھا ظرف یہ میرا کہ میں ہنس کر ستم سہہ لوں
تمھاری دشمنی میں کچھ نہ کچھ تو دوستی ہو گی

جو بس اک قطرۂ شبنم کو بھی دریا سمجھتے ہیں
یقیناً اُن کے لب پر عمر بھر کی تشنگی ہو گی

اگر محلوں کے سائے میں رہے ہر عہد کی شیریں
کسی پرویز سے فرہاد کی کیا دوستی ہو گی

کسی کو میں نے پہچانا ہے اپنے آپ میں محسن
مری خود آگہی میں گم نہ میری عاشقی ہو گی

Related posts

Leave a Comment