جو کہیں باہر ہے اس کو کھوجتے ہیں جان و دل میں
جو چھپا بیٹھا ہے اندر اس کو باہر ڈھونڈتے ہیں
Related posts
-
-
ناظم علی خان ہجر
کیا رشک ہے کہ ایک کا ہے ایک مدعی تم دل میں ہو تو درد ہمارے... -
صفی لکھنوی
دل میں سکت نہ بوند لہو کی جگر ہے نالے کی سادگی کہ فریبِ اثر میں...
