عشق کے سیل کو روکنے کے لیے
غم کی دیوار رستے میں رکھ دی گئی
Related posts
-
ناظم علی خان ہجر
اس بزم میں جو کچھ نظر آیا نظر آیا اب کون بتائے کہ ہمیں کیا نظر... -
ناظم علی خان ہجر
کبھی یہ فکر کہ وہ یاد کیوں کریں گے ہمیں کبھی خیال کہ خط کا جواب... -
ناظم علی خان ہجر
کچھ خبر ہے تجھے او چین سے سونے والے رات بھر کون تری یاد میں بیدار...
