اسد رضا سحر ۔۔۔ تو اگر ہم نشین ہو جائے

تو اگر ہم نشین ہو جائے
زندگی پر یقین ہو جائے

آسماں بعد کی کہانی ہے
پہلے میری زمین ہو جائے

آنکھ پر بھی کریگا پی ایچ ڈی
آشنائے جبین ہو جائے

پھونک پڑھ پڑھ کے سورۂ یوسف
تاکہ بیٹا حسین ہو جائے

اسکو مسند پہ بھی بٹھائیں گے
قابلِ آستین ہو جائے

Related posts

Leave a Comment