خوف کے کھُلتے ہیں ہر سو در ہی در
جب خدا کا ڈر نہ ہو تو ڈر ہی ڈر
کون ظاہر ہو گیا تج کر حجاب
ہر طرف ہیں عاشقوں کے سر ہی سر
کرتے ہیں بے دخل، گاؤں کے مکیں
اور بنا لیتے ہیں اپنے گھر ہی گھر
کوئی خوشیاں لے گیا کر کے شکار
شوق کے ٹوٹے پڑے ہیں پر ہی پر
اب ہو ظاہر لازمی، غیبی مدد
ہو گیا دنیا پہ طاری شر ہی شر
اے زمانے دو گھڑی کے عیش کا
سیّدِ بے بس پہ احساں دھر ہی دھر
