مفہوم جب تک اُن سے گھمایا نہیں گیا
باتوں میں اُن کی ہم سے بھی آیا نہیں گیا
نشو و نما ہو کیسے ہمارے وجود کی
ہم سے ترا فریب بھی کھایا نہیں گیا
خود آگیا تو اس لیے رکھنا پڑا اِسے
یہ شعر کھینچ تان کے لایا نہیں گیا
پایا نہیں گیا جو رہا ہم کو دستیاب
اور گم ہوا تو ہم سے گنوایا نہیں گیا
یاروں کی بے رخی ہے یقینا عروج پر
کب سے مرا مذاق اُڑایا نہیں گیا
