موسم تو سازگار تھا؛ کھلتا ہوا نہ تھا
ایسی تھیں بارشیں کہ الم بھیگتا نہ تھا
وہ شخص بزدلی کی عجب انتہا پہ تھا
ہم کو تو کیا ، کسی کو بھی پہچانتا نہ تھا
کیسی اداس رات تھی تارے بھی بجھ گئے
دل تھا کہ آسمان کو بھی جانتا نہ تھا
واعظ کے ہر بیان سے خطبہ الجھ گیا
لفظوں کے واہمے کو کوئی تولتا نہ تھا
دن اتنا تیز رو تھا کہ سورج نہ دکھ سکا
سایا پلٹ کے زیست کو بھی دیکھتا نہ تھا
سوچا کیے کہ یاد پہ مالا چڑھائیں گے
دل چاہتا ضرور تھا پر مانتا نہ تھا
ایسی تھیں آندھیاں کوئی پتہ نہ ہل سکا
دل ایسا منجمد کہ لہو رینگتا نہ تھا
