جب برسے گا بادل ، تھوڑی دیر کے بعد
بہہ جائے گا کاجل ، تھوڑی دیر کے بعد
یادوں نے پھر چھیڑ دیا ہے راگ مَلھار
رقص کرے گا پاگل ، تھوڑی دیر کے بعد
مہکیں گے رُخسار و لب و عارض کے گلاب
جب اُٹّھے گا آنچل تھوڑی دیر کے بعد
لمبی نیند نے آخر پیاس بجھا ڈالی
کوئی لایا چھاگل ، تھوڑی دیر کے بعد
ڈوب نہ جائے رات کا سورج، جانِ انیس
چلا نہ جائے سانول ، تھوڑی دیر کے بعد
۔۔۔۔۔۔۔۔
اپیل کا بھی حق نہیں دیا گیا
وہ کیسا فیصلہ مجھے سُنا گیا
یہ کون تھا ، جو خواب میری آنکھ کا
کسی پرائی آنکھ میں سجا گیا
ہتھیلیوں سے ڈَھلتی عُمر کا وبال
سُہاگ کی لکیر ہی مِٹا گیا
وہ جس گلی میں روز و شب گزر گئے
وہ کیا گیا، وہ گھر ، وہ راستہ گیا
انیسِ جاں! یہ پہلا واقعہ ہُوا
مجھے مِلے بغیر وہ چلا گیا
