جب برسے گا بادل ، تھوڑی دیر کے بعد بہہ جائے گا کاجل ، تھوڑی دیر کے بعد یادوں نے پھر چھیڑ دیا ہے راگ مَلھار رقص کرے گا پاگل ، تھوڑی دیر کے بعد مہکیں گے رُخسار و لب و عارض کے گلاب جب اُٹّھے گا آنچل تھوڑی دیر کے بعد لمبی نیند نے آخر پیاس بجھا ڈالی کوئی لایا چھاگل ، تھوڑی دیر کے بعد ڈوب نہ جائے رات کا سورج، جانِ انیس چلا نہ جائے سانول ، تھوڑی دیر کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔۔ اپیل کا بھی حق نہیں…
Read MoreTag: Muhammad Anees Ansari's ashaar
محمد انیس انصاری ۔۔۔ آگ جو مجھ میں بھڑکتی تھی ، بجھا دی گئی کیا؟
آگ جو مجھ میں بھڑکتی تھی ، بجھا دی گئی کیا؟ مری مٹّی بھی ہواؤں میں اُڑا دی گئی کیا؟ یہ جو قاتل کو عدالت نے بَری کر ڈالا یہ بھی مقتول کے بچّوں کو سزا دی گئی کیا؟ تیرے گھر کے در و دیوار مجھے بُھول گئے مری تصویر بھی کمرے سے ہَٹا دی گئی کیا؟ تجھے کس نے سرِ بازارِ وفا بھیجا تھا اے مِرے دل ! تِری قیمت بھی گھٹا دی گئی کیا؟ موسمِ تَرکِ تعلق کا تو اِمکاں ہی نہ تھا اَن کہی بات کو دانستہ…
Read Moreنعتؐ ۔۔۔ محمد انیس انصاری
کُھل جائے گی ہر اک پہ حقیقت حضورؐ کی محشر میں دیکھیے گا حکومت حضورؐ کی زندہ ہے ، اور زندہ رہے گا اَبد تلک جس دل میں بَس گئی ہے محبت حضورؐ کی ایماں اُسی کا اکمل و کامل ہے صاحبو! جس دل میں جاگزین ہے اُلفت حضورؐ کی ہم جی رہے ہیں رحمتِ عالم کی چھاؤں میں صَد مرحبا! سَروں پہ ہے رحمت حضورؐ کی ربِّ غفور ! میری تہی دامنی نہ دیکھ فردِ عمل میں لایا ہوں نسبت حضورؐ کی جانِ انیس! حضرتِ حسانؓ ہوں جہاں کیسے…
Read More