موسم تو سازگار تھا؛ کھلتا ہوا نہ تھا ایسی تھیں بارشیں کہ الم بھیگتا نہ تھا وہ شخص بزدلی کی عجب انتہا پہ تھا ہم کو تو کیا ، کسی کو بھی پہچانتا نہ تھا کیسی اداس رات تھی تارے بھی بجھ گئے دل تھا کہ آسمان کو بھی جانتا نہ تھا واعظ کے ہر بیان سے خطبہ الجھ گیا لفظوں کے واہمے کو کوئی تولتا نہ تھا دن اتنا تیز رو تھا کہ سورج نہ دکھ سکا سایا پلٹ کے زیست کو بھی دیکھتا نہ تھا سوچا کیے کہ…
Read MoreTag: Saadia Basheer
سعدیہ بشیر ۔۔۔ جس محبت نے تجھ کو تحرک دیا ، وہ محبت مجھے مضحمل کر گئی
جس محبت نے تجھ کو تحرک دیا ، وہ محبت مجھے مضحمل کر گئی روشنی معتبر مجھ کو کرتی بھی کیا، زندگی تو سراپا ہی دل کر گئی اس کی خاموشیوں نے وہ سب کہہ دیا ، جس کو کہنے سمجھنے میں عمریں لگیں اک جدائی تحیر میں ساکت رہی، یاد رخصت ہوئی تو نہ مل کر گئی خواب رستوں پہ بیجوں کی سوداگری،بانجھ تھی اور پھر بانجھ ہی رہ گئی سچ کے عنصر کی نشونما رک گئی ، اب کے جدت سبھی مبتدل کر گئی چاند آنگن میں تھا،اس…
Read Moreسعدیہ بشیر ۔۔۔ الجھن
الجھ سی گئی ہوں نیا سال ہے تو پرانے کا کیا ہو !!!! مرے پاس ایسے بہت سال ہیں۔۔۔، کہاں پر سجاؤ ں ؟ کسی شیلف پر یہ سماتے نہیں۔۔۔ ، نہ یہ ٹوٹ جائیں یہ گٹھڑی میں بھی باندھے جاتے نہیں ، مرتب رہیں ۔۔۔ یہ ملبوس ہیں کیا ؟ کہ دے دوں کسی کو جو مجھ پر ہے گزرا ، وہ میرا رہے گا سمجھ سے ہے باہر کہاں رکھ کے آؤں ؟ جہاں پر گذشتہ کئی سال رکھے وہ بجھنے لگے ہیں انھیں سانس لینے کی حاجت…
Read More