سلام ۔۔۔ توقیر تقی

سلام
۔۔

زیارت گاہِ چشم و دل بنا ہے شہرِ غم اپنا
یہیں ہے ایک مشک اپنی یہیں ہے اک علم اپنا

اِسی موسم میں سجتے ہیں عزا خانے دل و جاں میں
انھی آنکھوں میں لیتی ہے شبِ گریہ جنم اپنا

بس اک انکارِ جادہ ہے حسینی فکر لوگوں کا
بس اک چوکھٹ پہ ہوتا ہے سرِ تسلیم خم اپنا

تصدّق بر غمِ شبّیرؑ ہو کے بھی سلامت ہیں
زمیں اپنی، زماں اپنے، وجود اپنا، عدم اپنا

حبیب ابنِ مظاہر ہوں کہ حُر ہوں سب برابر ہیں
مودّت دل پہ کرتی ہے بہر صورت کرم اپنا

مشیّت آشنا کتنا تھا رہوارِ حسینیؑ بھی
میانِ کربلا رکھا اگر رکھا قدم اپنا

چراغِ گریہ سے روشن ہمارا انتظار آباد
خیال ایسے بھی رکھتی ہے ہمیشہ چشمِ نم اپنا

حریفِ ماتم و گریہ کہاں تک دُو بَدُو آئے
تخاطب دل بہ دل اپنا، تلاطم یم بہ یم اپنا

زمانے تُو تو ٹھہرا ہے کسی قیدی کی آنکھوں میں
زمانے تُو تو واقف ہے نہیں ہے صبر کم اپنا

فقط آنسو ہی گرتے ہیں جہاں زینبؑ کا نام آئے
ورق جب بین کرتے ہوں نہیں چلتا قلم اپنا

قبیلہ عشق ہے اور عشق بھی صابر گھرانے کا
تعارف خاص رکھتے ہیں یہاں توقیر ہم اپنا

Related posts

Leave a Comment