سید قاسم جلال ۔۔۔ رات دن اک کشمکش ، میرے دماغ و دل میں ہے

رات دن اک کشمکش ، میرے دماغ و دل میں ہے
ڈھونڈتا ہوں میں جسے ، وہ کون سی محفل میں ہے

خوں ابھی کافی رگِ جانِ تنِ بسمل میں ہے
’’دیکھتے ہیں زور کتنا، بازوئے قاتل میں ہے‘‘

ہے تحرک اور تموّج ہی سے دریا کی شناخت
خامشی شہرِ خموشاں کی ، اگر ساحل میں ہے

جانے کب پہنچیں گے قاتل ، کیفرِ کردار تک
خونِ مقتولاں ، تلاشِ منصفِ عادل میں ہے

اس جہاں میں پائے جنّت اور ہو وہ دائمی
محو ، انساں آج تک ، اس سعیٔ لاحاصل میں ہے

آج کے انساں کے دل میں حشر برپا ہے ، مگر
یہ بھی مشکل ہے سمجھنا اس کو ، کس مشکل میں ہے

ہے مسافر کے لیے لازم سمجھنا، یہ جلال
آخری اس کا پڑاؤ ، کون سی منزل میں ہے

Related posts

Leave a Comment