غلام حسین ساجد ۔۔۔ غفلت نہیں یہ مزرعِ فصلِ جدائی ہے

غفلت نہیں یہ مزرعِ فصلِ جدائی ہے
خاموش ہو گئے ہیں کہ اِس میں بھَلائی ہے

نکلی تھی صبح چہچہے سُن کر طیور کے
آتے ہی شام بادِ صبا لَوٹ آئی ہے

دیتے ہیں درس وہ مجھے دنیا سے ربط کا
کیا یہ سزا کے بھیس میں اذنِ رہائی ہے

اُس نے وہیں چراغِ ملامت جلایا ہے
ہم نے جہاں جہاں کوئی بستی بسائی ہے

کس نے مِرے وجود کو سائے میں لے لیا
دیوار اِس نواح میں کس نے اُٹھائی ہے

کہنی ہے تلخ بات کوئی اِس فقیر کو
یاں کس کا حکم چلتا ہے، کس کی خدائی ہے

گردش میں ہے سو بختِ رسا کی خبر نہیں
تہمت یہ آسمان پہ کس نے لگائی ہے

ساجدؔ مزاجِ یار ذرا گرم ہے کہ آج
اُس کی غزل تھی اور اُسی کو سنائی ہے

Related posts

Leave a Comment