کہ بے گھری میں ٹھکانہ دکھا کے مار دیا
خلا نورد کو سبزہ دکھا کے مار دیا
مواحدوں سے لڑائی نہیں محبت تھی
روایتوں کا وسیلہ دکھا کے مار دیا
کسی نے جھیل میں رکھا قدم تو مکتی ملی
شعاعِ حسن نے دریا دکھا کے مار دیا
جمالِ یار کے رستے پہ چل رہا تھا میں
جمالِ یار نے رستہ دکھا کے مار دیا
کسی کی کشتی ڈبو دی ڈبونے والے نے
کسی کو تو نے سفینہ دکھا کے مار دیا
تمھیں تو وصل سے بخشی ہے زندگی اس نے
کسی کو ہجر کا نقشہ دکھا کے مار دیا
بھنور سے بچنے کی کوشش میں کھو گیا میں اِدھر
اُدھر کسی نے کنارہ دکھا کے مار دیا
قمر نیاز دعا سے کِیا علاج کبھی
کبھی مریض کو حیلہ دکھا کے مار دیا
