تجھ بے رخی سے کب کوئی حیرت ہوئی مجھے آئی جو تیری یاد تو وحشت ہوئی مجھے اب جا کے تیرے ہجر کی عادت پڑی کہیں اب جا کے خیر اتنی سہولت ہوئی مجھے تیرے خیال سے ہی ضرورت مٹائی ہے جب تجھ علاوہ کوئی ضرورت ہوئی مجھے زینت کی بات خیر سے زینت کی بات ہے وحشت تمھارے کوچے کی زینت ہوئی مجھے ورنہ میں آشنا بھی محبت سے کب تھا دوست تجھ پر نظر پڑی تو محبت ہوئی مجھے ہوتے ہیں سیر چشم تری دید سے قمر دیکھوں…
Read MoreTag: قمر نیاز کی شاعری
قمر نیاز ۔۔۔ کہ بے گھری میں ٹھکانہ دکھا کے مار دیا
کہ بے گھری میں ٹھکانہ دکھا کے مار دیا خلا نورد کو سبزہ دکھا کے مار دیا مواحدوں سے لڑائی نہیں محبت تھی روایتوں کا وسیلہ دکھا کے مار دیا کسی نے جھیل میں رکھا قدم تو مکتی ملی شعاعِ حسن نے دریا دکھا کے مار دیا جمالِ یار کے رستے پہ چل رہا تھا میں جمالِ یار نے رستہ دکھا کے مار دیا کسی کی کشتی ڈبو دی ڈبونے والے نے کسی کو تو نے سفینہ دکھا کے مار دیا تمھیں تو وصل سے بخشی ہے زندگی اس نے…
Read More