تجھ بے رخی سے کب کوئی حیرت ہوئی مجھے آئی جو تیری یاد تو وحشت ہوئی مجھے اب جا کے تیرے ہجر کی عادت پڑی کہیں اب جا کے خیر اتنی سہولت ہوئی مجھے تیرے خیال سے ہی ضرورت مٹائی ہے جب تجھ علاوہ کوئی ضرورت ہوئی مجھے زینت کی بات خیر سے زینت کی بات ہے وحشت تمھارے کوچے کی زینت ہوئی مجھے ورنہ میں آشنا بھی محبت سے کب تھا دوست تجھ پر نظر پڑی تو محبت ہوئی مجھے ہوتے ہیں سیر چشم تری دید سے قمر دیکھوں…
Read More