سرکار کا کرم ہے جو بارانِ نعت ہے
مولا تری عطا سے ہی فیضانِ نعت ہے
ہر سمت تیرے نور کے جلوے نگاہ میں
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے”
تیرا وجود مرکز و محور ہے خیر کا
تیرا کلامِ نور ہی سامانِ نعت ہے
ذکرِ حبیب کرتے ہیں عشاق ہر گھڑی
ان کی زباں پہ ذکر بھی شایانِ نعت ہے
پتھر بدست لوگوں کے حق میں تری دعا
طائف کا سارا واقعہ خاصانِ نعت ہے
سجدہ طویل کرکے نواسے کے واسطے
سب کو دکھا دیا کہ یہ ریحانِ نعت ہے
سرکار کے کرم کی بدولت ہوں نیک نام
جتنا ہے میرا نام یہ احسانِ نعت ہے
یادِ رسولِ پاک سے دل میں گداز ہے
آنکھوں سے اشک برسے ہیں، امکانِ نعت ہے
سرکار کے گھرانے سے ملتی ہے روشنی
روشن جہان سارا بہ فیضانِ نعت ہے
رب کی عطائے خاص ہے انعام فاطمہ
مالک کی یہ عطا بھی تو احسانِ نعت ہے
