ماجد صدیقی ۔۔۔ ہونا کیا ہے اِس کے شور مچانے سے

ہونا کیا ہے اِس کے شور مچانے سے
دل بالک، من جائے گا بہلانے سے

ٹھہرا ہے بہتان کہاں نام اچّھوں کے
اُجڑا ہے کب چاند بھلا گہنانے سے

راس جسے دارو نہ کوئی آیا اُس کے
روگ مٹیں گے، اب تعویذ پلانے سے

چیخ میں کیا کیا درد پروئے چُوزے نے
بھوکی چیل کے پنجوں میں آ جانے سے

اب تو خدشہ یہ ہے ہونٹ نہ جل جائیں
ماجدؔ دل کی بات زباں پر لانے سے

Related posts

Leave a Comment