محمد اشرف کمال ۔۔۔ جو ستارے کبھی آنکھوں سے اٹھائے گئے تھے

جو ستارے کبھی آنکھوں سے اٹھائے گئے تھے
لہو روتے ہوئے مٹی میں بجھائے گئے تھے

آنکھ میں ٹوٹے ہوئے کانچ کے ٹکڑوں سے ہیں
ہائے وہ لوگ جو خوابوں میں بسائے گئے تھے

اپنی تکمیل کو پہنچے ہی نہیں ہیں اب تک
جانے ہم کونسی مٹی سے بنائے گئے تھے

اس قدر خوف تھا باتوں کا ہماری کہ نہ پوچھ
ہم زباں کاٹ کے دربار میںلائے گئے تھے

اس زمیں پر جو ہمیں بھیجا گیا تھا تو ہم
آسمانوں کی زمینوں سے اٹھائے گئے تھے

رستہ ہموارانھوں نے ہی کیا سورج کا
کئی جگنو جو اندھیرے میں جلائے گئے تھے

صرف بندوق یا تلوار ہی ہتھیار نہ تھے
سینکڑوں لفظ تھے جو تیر بنائے گئے تھے

Related posts

Leave a Comment