میر تقی میر ۔۔۔ خواہ مجھ سے لڑ گیا اب خواہ مجھ سے مل گیا

خواہ مجھ سے لڑ گیا اب خواہ مجھ سے مل گیا
کیا کہوں اے ہم نشیں میں تجھ سے حاصل دل گیا

اپنے ہی دل کو نہ ہو واشد تو کیا حاصل نسیم
گو چمن میں غنچۂ پژمردہ تجھ سے کِھل گیا

دل سے آنکھوں میں لہو آتا ہے شاید رات کو
کش مکش میں بے قراری کی یہ پھوڑا چِھل گیا

رشک کی جاگہ ہے مرگ اس کشتۂ حسرت کی میر
نعش کے ہمراہ جس کی گور تک قاتل گیا

Related posts

Leave a Comment