حامد یزدانی ۔۔۔ دِن آغاز ہُوا

دِن آغاز ہُوا ——- دن آغاز ہُوا اک آوارہ دن آغاز ہُوا اک آوارہ   پت جھڑ جیسا دن آغاز ہُوا لان میں دبکے، میپل کے بوسیدہ پتے اپنی مٹھی کھولتے ہیں جانے، کون زبان میں یہ کیا بولتے ہیں! میں تو اتنا جانتا ہوں عمر کی ڈھلتی دھوپ میں یادوں کی مٹّی بھی سونا لگتی ہے کوئی بتائے کون یہ سونا آنکھ میں بھر کر پہروں آوارہ پھرتا ہے سرمائی کہرے میں چُھپتی جھیلوں پر بیتے کل کے اونچے نیچے ٹِیلوں پر بس اک دن کو ساتھ لئے سانس میں…

Read More

حامد یزدانی ۔۔۔ نہ چھت نہ دیوار تھی فقط در بنا لیے تھے

نہ چھت نہ دیوار تھی فقط در بنا لیے تھے یہ ہم نے کیسے عجیب سے گھر بنا لیے تھے نہ جانے کیوں آسماں بہت یاد آرہا تھا سو کچھ ستارے سے سُونی چھت پربنا لیے تھے وہ جس ورق سے ہمیں بنانا تھی ایک کشتی اُس اک ورق پر کئی سمندر بنا لیے تھے وہ کہہ رہے تھے کہ عشق تقلید چاہتا ہے سو ہم نے بھی سارے اشک، پتھر بنا لیے تھے اب ایک صحرابھی ساتھ رہتا ہے اس کے گھر میں سبھی دریچے ہَوا کے رُخ پر…

Read More