شاہین عباس ۔۔۔ مٹی پہ قدم

مٹی پہ قدم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تیری آنکھوں کےپچھواڑ سے بھی گئےتیری تنہائی کی نیلگوں آڑ میںہنسنے رونے کی معیاد پوری ہوئیلوگ چھوٹے پڑےعشق جھوٹا پڑاسبز  وعدوں کا شیشہ زمیں پر گرااور دنیاکی بنیاد رکھی گئیدیکھتے دیکھتےچار سمتوں کے آباد کاروں میں ہم منتخب ہوگئےبن پڑھے، بن لکھےآٹھ پہروں کے عرضی گزاروں میں ہمبیٹھنے لگ گئےبھاگنے لگ گئے کاغذوں پرگناہوں کی رفتار سےاور لوح وقلم ہم کو چھوٹے پڑےکانپنے لگ گئےچار سمتوں کا بیڑا اُٹھائے ہوئےسوچنے لگ گئےخاک کی رسیوں میں بندھےاپنے قبلوں کو لادے ہوئے پشت پرکس طرف جائیں گےکون محراب بانہوں میں…

Read More

نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ شاہین عباس

نہ جلوت  ایسی کہیں پر نہ خلوت ایسی ہے بس اک گلی ہے کہ جس میں سہولت ایسی ہے ہمیں دلوں میں سے ہو کر گزرنا ہے، دُنیا! ہمارے پاس کسی کی امانت ایسی ہے زبان ہلتی نہیں اور جہان سنتا ہے تمام مدحتوں میں سے یہ مدحت ایسی ہے ہم آسمان کا نیلا بھی سبز جانتے ہیں خدا گواہ، ہم ایسوں کی حالت ایسی ہے کتابِ چہرہ ء روشن کھلی ہے طالبِ علم! یہیں سے پڑھ کہ پڑھائی ضرورت ایسی ہے زمانے ہو گئے ، چپ ہیں، کوئی ندا…

Read More