Month: 2021 مئی
نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ عزیز فیصل
شیوۂ عفو ہو، پیمانۂ سالاری ہوپڑھ یہ سنت، کہ تری فکر میں بیداری ہو خطبۂ خیر کو تفصیل سے، ترتیل سے پڑھتاکہ وجدان میں وجدان سی سرشاری ہو لطف تو تب ہے کہ ہر آن براہیمی درودچشمۂ چشم سے زمزم کی طرح جاری ہو کون ہے میرے محمد کے علاوہ جس کیذات بے مثل ہو اور بات بھی معیاری ہو پیٹ پر باندھے وہ پتھر سے کہاں عشق کرےجس کو دنیا کے وسائل کی طلب گاری ہو
Read Moreعزیز فیصل ۔۔۔ وقت (مزاحیہ نظم)
وقت (مزاحیہ نظم) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کے دو بجے آنکھ کھلنے پہ باذوق سرتاج سے اُکھڑے لہجے میں غصے سے کہنے لگی لکھنوی اہلیہ نامرادا !!!! بھلا شعر گھڑنے کا یہ کونسا وقت ہے؟ شعر سازی کےجھنجھٹ میں پڑتے ہوئے مصرع تر کی ڈھیری کے شمشان پر گلنے سڑنے کا یہ کونسا وقت ہے؟ ضد میں آتے ہوئے، سر کھپاتے ہوئے چاہے غزلوں پہ غزلیں لکھو تم مگر ضد پہ اڑنے کا یہ کونسا وقت ہے؟ "اےلڑاکا بلا! سن مری بھی ذرا چاہے لڑتی جھگڑتی رہے تُو سدا دشمن ِ شعر…
Read Moreعزیز فیصل ۔۔۔ گھرانہ قیس کا، فرہاد کا ڈیٹا نہیں ملتا
(مزاحیہ غزل) گھرانہ قیس کا، فرہاد کا ڈیٹا نہیں ملتاان اسلاف محبت کا کہیں شجرہ نہیں ملتا مری اور مولوی کی ہے طلب میں فرق نقطے کامجھے جلوہ نہیں ملتا، اسے حلوہ نہیں ملتا ترا تھیسز بھی اینویں ہے، مرا کھانا بھی پھیکا ہےتجھے سرقہ نہیں ملتا ، مجھے سرکہ نہیں ملتا یہ کہنا نادرا کا ہے،محبت کرنے والوں سےمرا خلیہ نہیں ملتا، ترا حلیہ نہیں ملتا ہے شاعر اور شوہر کی بہت ہمزاد محرومیاِسے چرچا نہیں ملتا، اٰسے خرچا نہیں ملتا وہ اس بیوی کا شوہر ہے جسے غصے…
Read Moreعزیز فیصل
وہ چربہ کر کے میر کا ایسے ہوا ہے خوش بچے نے جیسے باپ کے جوتے پہن لیے
Read Moreاختر شمار ۔۔۔ دن گزرتے جا رہے ہیں
دن گزرتے جا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم بھی مرتے جا رہے ہیںتیرے بعدہم دکھوں کے،آنسوئوں کے باد و باراں میںنہتے دل کے ساتھبے پنا ہے راستوں پرپائوں دھرتے جا رہے ہیںدن گزرتے جا رہے ہیںلمحہ لمحہ خوف کے مارے ہوئےرات دن کے وسوسوں میںکیا خبر کیا بیت جائے اگلے پلاس سفر میں ذہن سوچوں کے تھپیڑوںسے ہے شلاور ہم خود ہی سے ڈرتے جا رہے ہیںدن گزرتے جا رہے ہیں
Read Moreاختر شمار
صبح ہوئی تو ہم نے دل سے پہلا کام لیا یعنی تجھ کو یاد کیا اور تیرا نام لیا
Read Moreاختر شمار ۔۔۔ زیرِ کائی جو گزرتی ہے کنول ہونے تک
زیرِ کائی جو گزرتی ہے کنول ہونے تک میں اسی کرب میں رہتا ہوں غزل ہونے تک کس قیامت کی گھڑی ہے کہ خدا جانتا ہے میں تری راہ تکوں شامِ اجل ہونے تک تو نے تو آگ بجھانے کا کہا ہے فورا” راکھ ہو جائیں گے دل اس پہ عمل ہونے تک تیری آنکھوں کو ہوں شہکار بنانے والا سامنے بیٹھے رہو یوں ہی غزل ہونے تک آخری دید سے یہ ہجر مکمل ہو گا زہر بھی زہر نہیں، خون میں حل ہونے تک کیوں نہ اس ہجر سے…
Read Moreنعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ اختر شمار
آگہی کی وہ جو خیرات مدینے میں ہوئی مجھ سے میری بھی ملاقات مدینے میں ہوئی کیا بتائوں جو ان آنکھوں کا ہوا حال وہاں اور اس روز جو برسات مدینے میں ہوئی صبح آنکھیں بھی تو وہ دیکھنے والی ہوں گی ہاں بسر جن کی ہر اک رات مدینے میں ہوئی ناز کرتا ہے مقدر پہ زمانہ ، ان کے آپ سے جن کی ملاقات مدینے میں ہوئی میں نے تو مصر میں چپکے سے کہا صلِ علیٰ عرش پر گونج گئی بات مدینے میں ہوئی دو جہانوں پہ…
Read Moreشاہین عباس … اب ایسے چاک پر کوزہ گری ہوتی نہیں تھی
اب ایسے چاک پر کوزہ گری ہوتی نہیں تھیکبھی ہوتی تھی مٹی اور کبھی ہوتی نہیں تھیبہت پہلے سے افسردہ چلے آتے ہیں ہم توبہت پہلے کہ جب افسردگی ہوتی نہیں تھیتمھی کو ہم بسر کرتے تھے اور دن ماپتے تھےہمارا وقت اچھا تھا، گھڑی ہوتی نہیں تھیاچانک مصرع ِ جاں سے برآمد ہونے والےکہاں ہوتا تھا تُو جب شاعری ہوتی نہیں تھیہمیں جا جا کے کہنا پڑتا تھا ہم ہیں، یہیں ہیںکہ جب موجودگی، موجودگی ہوتی نہیں تھیتری ہوتی تھیں باتیں یا مری ہوتی تھیں باتیںکوئی اک بات بھی…
Read More