منظر منظر دل آنکھوں نے کھولے در کتنے ایک سفر کے اندر جاگے اور سفر کتنے شوق سمندر کے ساحل پر دل نے اِس موسم شہر بسائے کتنے ہر اک شہر میں گھر کتنے وہ بچھڑا تو چہرہ چہرہ اُس کے عکس کھِلے اک خورشید بجھا تو روشن ہوئے قمر کتنے اگلے دوراہے پر اتنی دھند نہیں ہو گی کھل جائے گا اب جاتے ہیں کون ،کدھر،کتنے دل کی لوح پہ سچائی کا اسم جو روشن ہو کھلتے جائیں عا لی آپ سے آپ ہُنر کتنے
Read MoreMonth: 2022 جنوری
جلیل عالی ۔۔۔ جب بھی بادل بارش لائے شوق جزیروں سے
جب بھی بادل بارش لائے شوق جزیروں سے خوشہ خوشہ حرف کی بیلیں بھر گئیں ہیروں سے تم سے ملے تو شہرِ تمنا کتنا پھیل گیا کیا کیا خواب نئے تعمیر ہوئے تعبیروں سے آنکھیں رنگوں کی برساتیں تک تک جھیل ہوئیں دل نے کیا کیا عکس کشید کیے تصویروں سے اُس کو چھونے کی خواہش نے ہاتھ بڑھائے تو پھن پھیلائے نکلے کتنے سانپ لکیروں سے عالی دانش کی بستی میں اب سردار وہی ڈھونڈ نکالے کچھ اندھیارے جو تنویروں سے
Read Moreجلیل عالی ۔۔۔ درد لکھے تو جانا کہ کیا کچھ برونِ بیاں رہ گیا
درد لکھے تو جانا کہ کیا کچھ برونِ بیاں رہ گیابات کی تو کھلا کس قدر فاصلہ درمیاں رہ گیا ہر کسی کی نظر میں فقط سامنی سیڑھیوں کے دِیےکس کو یہ سوچنے کی فراغت کہ کوئی کہاں رہ گیا دل کے آنگن میں اترے کہاں سے کوئی روشنی کی کرنآسمانِ وفا پر بجھے سورجوں کا دھواں رہ گیا وقت کی آندھیوں سے سبھی چاہتوں کے شجر گر گئےزندگی کا نشاں اک تری یاد کا سائباں رہ گیا سوچ سیلاب عالی بہا لے گیا سب ہمارے یقیںسطحِ احساس پر اپنے…
Read Moreجعفر علی حسرت
اُٹھ گیا ہے جہان کا اخلاص رہ گیا ہے زبان کا اخلاص
Read Moreکفیل آزر امروہوی
آج میں نے اسے نزدیک سے جا دیکھا ہے وہ دریچہ تو مرے قد سے بہت اونچا ہے
Read Moreداؤد غازی
نگاہ یار کا اس میں کوئی قصور نہیں کہ ہم نے دل کی خرابی تو آپ ہی کی ہے
Read Moreلال چند فلک
دل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفت میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی
Read Moreجمیل الدین عالی
تم ایسے کون خدا ہو کہ عمر بھر تم سے اُمید بھی نہ رکھوں، نا اُمید بھی نہ رہوں
Read Moreعون الحسن غازی ۔۔۔ محبت کو وہ کیا سمجھے، کہ جو اکڑا کے چلتا ہے
محبت کو وہ کیا سمجھے، کہ جو اکڑا کے چلتا ہے وہ مجھ سے دُور رہ کر بھی مجھے اپنا سا لگتا ہے مرے خوابوں کو یہ اکثر بہا دیتا ہے پانی میں بڑا بے خوف ہے بادل، بتائے بِن برستا ہے یہ قصہ روز کا ہے، پیار سے نمٹا لیا جائے وگرنہ وہ ہمیشہ کے لیے بھی روٹھ سکتا ہے زمانے کے اندھیروں سے نکل کر آگیا جب سے وہ بن کر چاند میرے گھر کے آنگن میں چمکتا ہے مجھے کروٹ بدلنے کی ذرا مہلت نہیں دیتا کہ…
Read Moreسہیل یار ۔۔۔ یارو چلو یہ مانا اُس سا ایک نہیں
یارو چلو یہ مانا اُس سا ایک نہیںلیکن پھر کیوں عالم سارا ایک نہیں ہنس کر دیوارِ گریہ سے پوچھوں گاتیرے اِتنے گھر ہیں، میرا ایک نہیں ایک خدا کا مطلب وحدتِ عالم ہےعالم میں وحدت سے اچھا ایک نہیں وہ کہتے ہیں فرق ہے ہم میں اور اُن میںمیں نے پوچھا رنگ لہو کا ایک نہیں؟ وہ کہتے ہیں یہ تقسیم ضروری تھیمیں بولا کیا باپ ہمارا ایک نہیں؟ وہ کہتے ہیں، فرق ہے اُس کے بندوں میںمیں نے کہا، اللہ کا کنبہ ایک نہیں؟ میں کہتا ہوں یار…
Read More