دھوپ ہے سائباں نہیں ملتا سر پہ اب آسماں نہیں ملتا یوں مقفل ہیں سب کے دروازے کوئی خالی مکاں نہیں ملتا شہر تو ہے بہت بڑا لیکن زندگی کا نشاں نہیں ملتا تو مرے ساتھ چل نہیں سکتا مجھ سے تیرا گماں نہیں ملتا پھول بکھرے ہوئے ہیں گلشن میں باغ میں باغباں نہیں ملتا اب تو آنکھوں میں دھول اُڑتی ہے تیرا نام و نشاں نہیں ملتا لوٹ آیا ہوں آسماں سے میں مجھ کو میرا جہاں نہیں ملتا سوچیے تو نظر نہیں آتا ڈھونڈیے تو کہاں نہیں…
Read MoreMonth: 2022 جنوری
طالب انصاری ۔۔۔ مشغلہ شعر گوئی ہے صاحب
مشغلہ شعر گوئی ہے صاحب ہم سا پاگل بھی کوئی ہے صاحب فصل غم کی میں آپ کاٹوں گا اپنے ہاتھوں سے بوئی ہے صاحب رات کا شکریہ ادا کر دوں میرے ہم راہ روئی ہے صاحب آرزو کو جگانے مت آنا شور کر کر کے سوئی ہے صاحب میری باتیں جسے سمجھ آئیں شہر میں کوئی کوئی ہے صاحب سرد راتوں میں کام آتی ہے یاد بھی گرم لوئی ہے صاحب ناؤکا پوچھتے ہو کیا مجھ سے ناخدا نے ڈبوئی ہے صاحب میں اکیلا بجھا بجھا تو نہیں شام…
Read Moreارشد نعیم ۔۔۔ منچندا بانی __ ایک گم شدہ خواب کا مغنی
منچندا بانی— ایک گم شدہ خواب کا مغنی منچندا بانی نے آنکھ کھولی تو ایک ہزار سال کے تجربات سے تشکیل پانے والی ہند اسلامی تہذیب ایک حادثے کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ہندوستان آزادی کی تحریک کا مرکز بنا ہوا تھا اور ہندوستان کی تقسیم آخری مراحل تک تھی اور ایک ایسی ہجرت کے سائے دو قوموں کے سر پر منڈلا رہے تھے جو لہو کی ایک ایسی لکیر چھوڑ جانے والی تھی جسے صدیوں تک مٹانا ممکن نہیں ہوگا۔ یہ احساس، یہ منڈلاتا ہوا خطرہ ہمیں بانی کے…
Read Moreعطاء الحق قاسمی ۔۔۔ ناصر زیدی (خاکہ)
ناصر زیدی یہ غالباً ۱۹۵۳ء کی بات ہے جب میں اپنے خاندان کے ہمراہ وزیر آباد سے’’ہجرت‘‘ کر کے لاہور کی سب سے خوب صورت بستی ماڈل ٹائون میں آکر آباد ہوا اور یہاں ماڈل ہائی سکول میں چھٹی جماعت میں داخلہ لیا۔ یہ سکول سی بلاک کے سٹاپ کے سامنے ممتاز صحافی م ش کی کوٹھی میں واقع تھا۔ میری رہایش اے بلاک میں تھی۔ میں دھاری دار پاجامہ اور اسی قسم کی کوئی قمیص پہنے بستہ گلے میں لٹکائے، تختی ہوا میں لہراتے سایہ دار درختوں اور مہکتے…
Read Moreصائمہ فردوس ۔۔۔ عصری اَدب کا ترجمان __’’شعوروادراک‘‘
عصری اَدب کا ترجمان … …’’شعوروادراک‘‘ ……………………………………………… ادبی جریدہ چند مطبوعہ اوراق کا پلندہ نہیں ہوتا بلکہ اسے ادباء، فضلا اور علماء کی ایسی انجمن کا درجہ حاصل ہوتا ہے جس سے نہ صرف معاشرے کو فکری اور نظریاتی طور پر مائل بہ ارتقاء رکھا جا سکتا ہے بلکہ اس کے باطن میں ایک دَور کی سماجی ،فکری اور تخلیقی کروٹیں محفوظ ہو جاتی ہیں۔ ادبی جریدہ نگاری جہاں عوام اور خواص کے ذہن کو نئی روشنی سے منور کرتی ہے ‘وہیں اس سے نئے لکھنے والوں کی ذہنی تربیت…
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ تیوری چڑھائی تو نے کہ یاں جی نکل گیا
ہم خستہ دل ہیں تجھ سے بھی نازک مزاج ترتیوری چڑھائی تو نے کہ یاں جی نکل گیا گرمیِ عشق مانعِ نشوونما ہوئیمیں وہ نہال تھا کہ اُگا اورجل گیا مستی میں چھوڑ دَیر کو کعبے چلا تھا میںلغزش بڑی ہوئی تھی و لیکن سنبھل گیا عریاں تنی کی شوخی سے دیوانگی میں میرمجنوں کے دشتِ خار کا داماں بھی چل گیا
Read Moreمیرتقی میر ۔۔۔ تیر جو اس کمان سے نکلا
تیر جو اس کمان سے نکلا جگرِ مرغ جان سے نکلا نکلی تھی تیغ بے دریغ اس کی میں ہی اک امتحان سے نکلا گو کٹے سر کہ سوزِ دل جوں شمع اب تو میری زبان سے نکلا مرگیا جو اسیر قیدِ حیات تنگنائے جہان سے نکلا دل سے مت جا کہ حیف اُس کا وقت جو کوئی اُس مکان سے نکلا نامرادی کی رسم میرؔ سے ہے طَور یہ اس جوان سے نکلا
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ خوبی کا اس کی بسکہ طلب گار ہوگیا
خوبی کا اس کی بسکہ طلب گار ہوگیاگل باغ میں گلے کا مرے ہار ہوگیا کس کو نہیں ہے شوق ترا پر نہ اس قدرمیں تو اسی خیال میں بیمار ہوگیا ہے اس کے حرفِ زیر لبی کا سبھوں میں ذکرکیا بات تھی کہ جس کا یہ بستار ہوگیا تو وہ متاع ہے کہ پڑی جس کی تجھ پہ آنکھوہ جی کو بیچ کر بھی خریدار ہوگیا کیا کہیے آہ عشق میں خوبی نصیب کیدل دار اپنا تھا سو دل آزار ہو گیا کب زد ہے اس سے بات کے…
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ ایسی گلی اک شہر اسلام نہیں رکھتا
ایسی گلی اک شہر اسلام نہیں رکھتاجس کُوچے میں وہ بت صد بدنام نہیں رکھتا آزار نہ دے اپنے کانوں کے تئیں اےگلآغاز مرے غم کا انجام نہیں رکھتا ناکامیِ صد حسرت خوش لگتی نہیں ورنہاب جی سےگزر جانا کچھ کام نہیں لگتا ہو خشک تو بہتر ہے وہ ہاتھ بہاراں میںمانند نےِ نرگس جو جام نہیں رکھتا یوں تو رہ و رسم اس کو اس شہر میں سب سے ہےاک میرؔ ہی سے خط و پیغام نہیں رکھتا
Read Moreجلیل عالی ۔۔۔ اب کی بہاروں جوبن پر تھے شوق شجر کتنے
اب کی بہاروں جوبن پر تھے شوق شجر کتنے کس کو خبر تھی آجائیں گے درد ثمر کتنے کتنی شبوں کی نیند گنوا کر دیکھا اک سپنا دیکھ لیا اک سپنا تو پھر جاگے ڈر کتنے کتنی سُونی سُونی ہو گئیں چاہت کی گلیاں سوچ ہوائیں کر گئیں جذبے شہر بدر کتنے گزرے کیسے کیسے ظالم لمحوں کے لشکر کھودی یاد زمین تو نکلے خواب کھنڈر کتنے جانے اک دیوار پہ کیسا نقش بنا بیٹھے سارے گھر میں جاگ اُٹھے آسیب اثر کتنے
Read More