پاکستان میں بولی جانے والی زبانیں ماہر لسانیات ڈاکٹر طارق عبدالرحمٰن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 74 زبانیں بولی جاتی ہیں جبکہ ڈاکٹر آتش درانی کا خیال ہے کہ یہ تعداد 76 ہے۔ تاہم دنیا بھر کی زبانوں پر تحقیق کرنے والی ایک ویب سائٹ’ ’ایتھنو لوگ‘ ‘کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کل 73 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ وِیکی پیڈیا کے مطابق پاکستان میں رائج دوسری زبانوں اور لہجوں میں، آیر، بدیشی، باگری، بلتی، بٹیری، بھایا، براہوی، بروشسکی، چلیسو، دامیڑی، دیہواری، دھاتکی، ڈوماکی، فارسی، دری، گواربتی، گھیرا، گوریا،…
Read MoreMonth: 2022 جنوری
نعمان حیدر حامی ۔۔۔ تری میری محبت میں وفائیں اورباقی ہیں
تری میری محبت میں وفائیں اورباقی ہیں کہا تھا ناں !! ابھی دل میں صدائیں اور باقی ہیں جہاں بھر کے یہ غم جھیلے نصیبوں سے تری خاطر خدا جانے ابھی کتنی سزائیں اور باقی ہیں مری نظریں تری قسمت پہ جا ٹھہریں وہاں اب تو چمن سے بس بہاروں کی فضائیں اور باقی ہیں نجانے اس جدائی سے کبھی ہم ایک ہو پائیں ہمارے پاس ورنہ یہ دعائیں اور باقی ہیں ترے دکھ میں نجانے کب تلک بہتی رہیں حامی مری آنکھوں میں اشکوں کی گھٹائیں اور باقی ہیں
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ جلیل عالی
کی اُسؐ نے اک نگاہ تو ہر شے بدل گئی صدیوں سے ڈولتی ہوئی دنیا سنبھل گئی تقریر اُسؐ کی نوبتِ حرفِ خدا بنی تدبیر اُسؐ کی غایتِ قدرت میں ڈھل گئی ایسا کبھی ہوا نہیں پوری ہوئی نہ ہو جو بات بھی زبانِ نبیؐ سے نکل گئی دریائے نورؐ آ گیا جب اپنے جوش پر عالم میں دُور دُور تلک اُس کی چھل گئی ہر اک سوال کا درِ شہؐ سے ملا جواب کس کس دوار عقل نہیں بہرِ حل گئی شام و سحر حیات کے محفوظ ہو گئے…
Read Moreرشید آفرین ۔۔۔ قدم قدم سے پیامِ نجات ملتا ہے
قدم قدم سے پیامِ نجات ملتا ہے ہمارے رُخ سے رُخِ واقعات ملتا ہے وہی ہوئے ہیں امینِ غمِ محبت بھی وہ لوگ جن کو غمِ کائنات ملتا ہے عبث تلاشِ سکونِ حیات ہے لوگو! ’’حیات کھو کے سکونِ حیات ملتا ہے‘‘ نہ ہو سکا ہے مرا کوئی بھی شریکِ سفر مجھے تو سایا ہی بس اپنے ساتھ ملتا ہے کریں جہاں میں جو تحقیق خونِ ناحق کی تو آدمی ہی پسِ واردات ملتا ہے ذرا گزر تو سہی بے ثبات عالم سے اِسی کے بعد مقامِ ثبات ملتا ہے…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ عقیل رحمانی
روح پر عشقِ محمدؐ کی قبا رہنے دے جسم کی خاک میں بھی نُورِ حرا رہنے دے شہنشاہوں کی طرح مجھ کو خدا رہنے دے زندگی بھر مجھے آقا کا گدا رہنے دے عشق میں ڈوبی ہوئی دل کی فضا رہنے دے نورِ احمدؐ کو وہاں جلوہ نما رہنے دے اِن کی مہکی ہوئی چھاؤں میں سکوں ملتا ہے اُنؐ کی یادوں کا ہر اک پیڑ ہرا رہنے تھے آپؐ کے سارے غلاموں کا رہوں ادنیٰ غلام میرے شاہاؐ یہ کرم مجھ پہ سدا رہنے دے اس میں روشن ہے…
Read Moreاعجاز روشن ۔۔۔ نہ کچھ تدبیر ہے باقی نہ کچھ تسخیر کرنے کو
نہ کچھ تدبیر ہے باقی نہ کچھ تسخیر کرنے کو ہے اک منظر مرے آگے نظر تصویر کرنے کو ابھی تو وقت کی انگڑائی بھی ٹوٹی نہیں یارو ابھی سے ڈھونڈتے ہو راستے تاخیر کرنے کو الگ کیوں اہلِ دنیا سے سجا کے خواب بیٹھے ہو کہ دنیا لازمی ہے خواب کی تعبیر کرنے کو گدازِ دل بھی ہو شامل تو ہو احساس بھی زندہ فقط اینٹیں نہیں ہوتی ہیں گھر تعمیر کرنے کو یہ سب کہتے ہیں باتوں سے کہاں حالات بدلے ہیں سبھی کہتے تو ہیں لیکن فقط…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔ محمد یٰسین قمر
اے دل! یہ بڑا کرم ہوا ہے مصروفِ ثنا قلم ہوا ہے جب اُنؐ کے دیار کو چلے ہیں انعام قدم قدم ہوا ہے اے ذوقِ مسافرت مبارک! منزل جو تری حرم ہوا ہے ہے زیرِ لوائے حمد جو بھی ممنونِ شہِ امم ہوا ہے اخلاقِ نبیؐ کی شان دیکھو! گرویدہ عرب، عجم ہوا ہے اب دیکھیے کب؟ ہمیں بلائیں ساماں تو قمر بہم ہوا ہے
Read Moreنعتؐ ۔۔۔ ریاض مجید
وہ عدالت کہ جہاں ہونا ہے آخر حاضر ساتھ ہو میرے‘ مرا حامی و ناصر حاضر وردِ لب کرتے ہوئے ’آیہ جاوک‘ کا اُس کے دربار میں سب ہوتے ہیں زائر حاضر ایک مجلس یہاں ہر رات لگا کرتی ہے جس میں ہوتے ہیں گئے وقتوں کے زائر حاضر روحیں لگتی ہیں وہ مرحوم ثنا خوانوں کی صبح دم ہوتے ہیں جو روضے پہ طائر حاضر ملتجی ہوں تری رحمت ہو قریں رب کے حضور ایک اک کر کے ہوں جب نعت کے شاعر حاضر ہے دعا تیری شفاعت ہو…
Read Moreاحمد جلیل ۔۔۔ آتی جاتی سانسوں نے دل سے بیوفائی کی
آتی جاتی سانسوں نے دل سے بیوفائی کی زندگی کے زنداں سے روح کی رہائی کی خود سے بھی چھپا رکھتے بھید جو چھپانا تھا بات لا کے ہونٹوں پہ تم نے خود پرائی کی کھل گیا درِ توبہ مستجاب لمحوں میں قلب و جاں کی اشکوں سے جب کبھی صفائی کی جانے ہجر میں کب تک وصل کو ترسنا ہے ختم ہی نہیں ہوتی رسم یہ جدائی کی جھانک کر ذرا دِل میں پھر جلیل بتلاؤ بات زیب دیتی ہے تم کو پارسائی کی
Read Moreآفتاب محمود شمس ۔۔۔ جو دل کی شورشوں کا اب کے حساب کرتے
جو دل کی شورشوں کا اب کے حساب کرتے خود کو تباہ کرتے ، تجھ کو خراب کرتے مجھ کو خدا جو دیتا تخلیق کا ہنر تو دریا بناتے تجھ کو خود کو سراب کرتے کیوں اب دکھائے مجھ کو مر کر جناب چہرہ مجھ سے تھا پردہ ان کا ، اب بھی حجاب کرتے نامہ مرا گیا ہے گزرے ہیں اب کے برسوں قسمت نہیں تھی میری حاصل جواب کرتے دل کی گلی میں آ کر کرتے سوال ہم سے ہم اُس سوال ہی کو، اُس کا جواب کرتے…
Read More