جلیل عالی ۔۔۔ پھر سوچ کے ساحل پر لہروں  نے یہ ٹھانی ہے

پھر سوچ کے ساحل پر لہروں  نے یہ ٹھانی ہے کچھ نقش مٹانے ہیں اک شکل بنانی ہے گر ذوقِ سماعت ہو بے صوت صداؤ ں کا اک لمحۂ فانی بھی صدیوں کی کہانی ہے یا بحر کی گہرائی کچھ دل سے نہیں کہتی یا قطرۂ شبنم بھی دریائے معانی ہے ہر عرضِ تمنا کا انجام ہے اک جیسا ہیں خواب نئے لیکن تعبیر پرانی ہے اب اور تو کچھ ایسے آثارنہیں ملتے اک یاد تری اپنے ہونے کی نشانی ہے کیوں بات سنو دل کی اِس راہ میں تو…

Read More

سعدیہ وحید ۔۔۔ صحافت__ایک باوقار شعبہ

صحافت ….ایک باوقار شعبہ ……………………………….. حالیہ دَور میں ایک طبقے کے مطابق صحافت ایک نفع بخش کاروبار ہے اور اس کے لیے کسی قسم کی تربیت اور اہلیت کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ اگرچہ ڈاکٹری، وکالت یا اس قسم کاکو ئی اور پیشہ ہوتو اس کے لیے باقاعدہ تربیت اور اہلیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ گزشتہ کچھ برسوں سے اس شعبے سے منسلک لوگو ں کو جہاں بے شمار مالی ودیگر مسائل درپیش رہے ہیں ‘ وہاں اس شعبے سے منسلک چند احباب اور اداروں نے بھر پور ذرائع استعمال…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ افضال احمد انور

اَللہ رے ! یہ رونقِ بازارِ شہرِ شاہؐ خُلدِ بریں ہے آپ طلبگارِ شہرِ شاہؐ ہے جانِ کعبہ ‘ عظمتِ سِدرہ ‘ قرارِ عرش کیسے بیاں ہو شانِ طَرَح دارِ شہرِ شاہؐ یاں کی فضا تمدُّنِ عالَم کی جان ہَے تاریخِ اَوجِ دہر ہیں تذکارِ شہرِ شاہؐ یہ ہے کمالِ نسبتِ سرکارِ دوجہاںؐ رشکِ گُلِ بہار ہے ‘ ہر خارِ شہرِ شاہؐ ذَرّاتِ اَرضِ طَیبہ ہَیں رشکِ نجومِ چرخ محبوب ‘ قدسیوں کے ہیں اَبرارِ شہرِ شاہؐ منبع ہے اِن کا ذاتِ گرامی حضورؐ کی جانِ طُویٰ و طُور ہیں…

Read More

طالب انصاری ۔۔۔ کہاں جاؤں

کہاں جاؤں ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے اپنے لیے اک گھر بنانا ہے کہ اب سرکار کی جو نوکری ہے چُھٹنے والی ہے پرانی گلیوں میں واپس چلا جاؤں یہ جی تو کرتا ہے لیکن وہاں سے تو جڑیں ہی ایسی اکھڑی ہیں وہ مٹّی اجنبی نظروں سے مجھ کو گھورتی ہے اور مری پہچان سے انکار کرتی ہے مرے بیٹے نے جو نقشہ بنایا ہے تو اس میں کوئی ڈیوڑھی ہی نہیں ہے (اب کہیں تعمیر کی ہر ممکنہ صورت میں ڈیوڑھی کا تصوّر ہی نہیں ملتا) نہ لوہے کی سلاخوں والی…

Read More

نسیمِ سحر ۔۔۔ کہا تھا کس نے کہ یوں آسماں اُٹھائے پھرو

کہا تھا کس نے کہ یوں آسماں اُٹھائے پھرو سو اب یہ بارِ گراں میری جاں اُٹھائے پھرو لگی ہے آگ جو دل میں اُسے بھڑکنے دو نفس نفس میں تم اُس کا دھؤاں اُٹھائے پھرو زمین پاؤں تلے سے سرکتی جاتی ہے جدھر بھی جاؤ تُم اپنا مکاں اُٹھائے پھرو تمہاری بات سُنے ، کس کو اِتنی فرصت ہے لبوں پہ یوں نہ وہی داستاں اُٹھائے پھرو رفاقتوں کا نتیجہ یہی نکلنا تھا اب اپنی ذات کی تنہائیاں اٹھائے پھرو ہوئے ہو تم جو شکستہ شکستِ خواب کے ساتھ…

Read More

حمد ۔۔۔ افضال احمد انور

ضیائے نجم و مہ و آفتاب کِس کی ہے؟ فضائے نیل و فرات و چناب کِس کی ہے؟ وہ جس کے ذکر سے ہر سو مہک مہک اُٹّھی یہ بُوئے رشکِ عبیر و گلاب کِس کی ہے؟ ہر ایک شے میں ہر اک جا ظہور ہے کِس کا ؟ ورائے دید بھی خوئے حجاب کِس کی ہے؟ ہے نظمِ خشک و ترِ جملہ عالمیں کِس کا ؟ یہ بزمِ کون و مکاں ‘ اے جناب! کِس کی ہے؟ یہ کِس کے قبضۂ قدرت میں ہے نظامِ کاشت؟ سحاب کِس کا…

Read More

محمد نوید مرزا ۔۔۔ جس کو احمد فراز کہتے ہیں (احمد فراز کے لیے نظم)

جس کے شعروں میں دل دھڑکتا تھا جس کی باتوں میں رنگ ہوتے تھے اُس کے لفظوں کے دائرے اندر ان گنت تتلیاں بھی ہوتی تھیں پھول ، خوشبو ، ہوا ، سبھی موسم دسترس میں وہ اپنی رکھتا تھا حرف اُس کے غلام تھے سارے وہ اُنھیں دم بدم پرکھتا تھا ظلمتوں کے خلاف بھی اُس نے روشنی کے پیام لکھے تھے جو صفِ دشمناں میں رہتے ہیں ایسے لوگوں کے نام لکھے تھے عام لوگوں میں خاص تھا کوئی زندگی کی اساس تھا کوئی اُس کی یادوں میں…

Read More

اشرف کمال ۔۔۔ غم کو بینائی ، میں اندھوں کو بصارت دیتا

غم کو بینائی ، میں اندھوں کو بصارت دیتا دینے والا مجھے اتنی تو مہارت دیتا میں بھی تو بکھرا پڑا تھا وہیں سامان کے پاس وہ مجھے خود کو اٹھانے کی تو مہلت دیتا میری آنکھیں بھی جھلکتیں ترے خال وخد سے میں وہ تصویر کو رنگوں کی تمازت دیتا اس کے دل کے کسی کونے میں مہکتی رہتی وہ مری یاد کو اتنی تو اجازت دیتا شہر کا شہر کھڑا تھا مرے رستے میں کمال کون واپس مجھے جانے کی اجازت دیتا

Read More

حمد ۔۔۔ نسیمِ سحر

نظر مری پسِ اَفلاک ہو تو حمد کہوں کچھ اُس کی ذات کا اِدراک ہو تو حمد کہوں گداز دِل میں ذرا اَور پیدا ہو جائے یہ آنکھ اَور بھی نمناک ہو تو حمد کہوں میں ٹوٹ پھوٹ چکا ہوں،سمیٹ لوں خود کو بحال یہ دلِ صد چاک ہو تو حمد کہوں ابھی تو ہے مری آنکھوں پہ جہل کا پردہ مَیں مُنتظِرہوں کہ یہ چاک ہو تو حمد کہوں زمیں پہ رہ کے مری سوچ کچھ حدود میں ہے کوئی اشارۂ افلاک ہو تو حمد کہوں پُرانے لگتے ہیں…

Read More

محمد یوسف وحید ۔۔۔ محسن نقوی ___تعارف وکلام

محسن نقوی  …تعارف وکلام شعر و ادب کی دنیا کا ایک معتبر نام محسن نقوی 5 مئی 1947ء میں سید چراغ حسین شاہ کے ہاں ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے۔والدین نے ان کا نام غلام عباس رکھا ۔ ان کا تعلق ایک عام اور کم آمدنی والے گھرانے سے تھا۔ ان کے والدپہلے لکڑی کا کام اور بعد ازاں ایک ہوٹل پر کام کرتے تھے۔ محسن نقوی کے چھ بہن بھائی تھے۔ پرائمری تعلیم گھر کے قریب واقع پرائمری سکول نمبر 6 میں حاصل کی۔میٹرک گورنمنٹ ہائی سکول نمبر…

Read More