یہ محبت تو وہ دریا ہے اتر کر جس میں میں نے جب لوٹ کے دیکھا تو کنارا نہیں تھا
Read MoreMonth: 2022 جنوری
ممتاز اطہر ۔۔۔ محوِ حیرت ہیں کہ تعمیر کی حسرت کیا ہے
محوِ حیرت ہیں کہ تعمیر کی حسرت کیا ہے آسماں ہے تو کسی چھت کی ضرورت کیا ہے ہم نے رکھے ہیں سرِ شام دیے مٹی میں ہم سے پوچھے کوئی ، مٹی کی محبت کیا ہے آئنہ ہونے کی خواہش بھی تو خود ہی کی تھی اب اگر ٹوٹ کے بکھرے ہیں تو حیرت کیا ہے شاخ سے ٹوٹتے پتے ہی بتا سکتے ہیں ہجر کیا چیز ہے اور اصل میں ہجرت کیا ہے ان کے ہم راہ کسی روز نکل چلتے ہیں دیکھتے ہیں کہ پرندوں کی مسافت…
Read Moreخالد احمد
ہم نے اس سال بھی جی بھر کے نہ دیکھا تجھ کو خالد اس سال بھی ہم نے وہی نادانی کی
Read Moreخاور اعجاز ۔۔۔ خواب میں ہار پروتے ہُوئے رہ جاتے ہیں
خواب میں ہار پروتے ہُوئے رہ جاتے ہیں فصلِ گُل ! ہم یونہی سوتے ہُوئے رہ جاتے ہیں دامنِ غیر تو بھر جاتا ہے لیکن اکثر تیرے بندے تیرے ہوتے ہُوئے رہ جاتے ہیں لوگ ملبوس بدل لیتے ہیں پل میں اور ہم داغِ پندار ہی دھوتے ہُوئے رہ جاتے ہیں فصل کٹ جاتی ہے بیتاب سروں کی اور وہ امن کا بیج ہی بوتے ہُوئے رہ جاتے ہیں بیت جاتی ہیں مہکتی ہُوئی عمریں اور لوگ سانس کی گٹھڑیاں ڈھوتے ہُوئے رہ جاتے ہیں
Read Moreخاور اعجاز ۔۔۔ آ، مِرا خواب ہو
آ_ مِرا خواب ہو زمانے! تِری آنکھ میں بھی کوئی خواب ہے یا نہیں کرب کی زرد آندھی نے میری تو دونوں ہی آنکھوں میں مٹی اُڑائی ہُوئی ہے مِرے راستے میں تو دُنیا ہی آئی ہُوئی ہے عجب بھیڑ ہے خواب کے قافلوں کی عجب بھیڑ ہے ہر طرف اِک الاؤ جلا ہے کہیں کوئی شعلہ کہیں بس دھواں اُٹھ رہا ہے کبھی اِس طرف کو جو تو آن نکلے مِرے دِل کے صحرا کا منظر تجھے جانے کیسا لگے گا زمانے! مِرے دِل کے صحرا میں آتے ہُوئے…
Read Moreانور شعور ۔۔۔ چُھٹا جو گھر تو کوئی اور ہی لگے خود کو
چُھٹا جو گھر تو کوئی اور ہی لگے خود کو ہم اپنے شہر میں بھی اجنبی لگے خود کو کسی سبب کبھی پینے سے اجتناب کیا تو بادہ خوار نہیں ہم ولی لگے خود کو بنے تھے رندِ بلا نوش ہم ڈرامے میں مگر بہکتے ہوئے واقعی لگے خود کو ہمارے سامنے تھی رات سرگزشت اپنی کہیں فرشتے ، کہیں آدمی لگے خود کو ہمیں ہے خوئے تساہل ، مگر محبت کے معاملے میں بہت محنتی لگے خود کو کہا گیا ہمیں نازک مزاج شخص تو ہم کراچوی ہیں مگر…
Read Moreہمایوں پرویز شاہد ۔۔۔ نہ زمیں اور نہ آسماں میں ہے
نہ زمیں اور نہ آسماں میں ہے درد جتنا مری فغاں میں ہے پھر زلیخا خریدنے آئے ایک یوسف مری دکاں میں ہے پھونک ڈالے گا ایک دن دنیا وہ جو شعلہ مرے بیاں میں ہے وہ ہدف تک ضرور پہنچے گا آخری تیر جو کماں میں ہے پا گیا وہ سکونِ دل شاہد جو بھی آیا مری اماں میں ہے
Read Moreخالق آرزو ۔۔۔ آہٹیں واہمہ ہیں
آہٹیں واہمہ ہیں ہمنوا سوچنے تو دے مجھ کو ہمنوا سوچنے تو دے مجھ کو کس کی خوشبو فضا میں پھیلی ہے کون دیتا ہے دستکیں در پر کس کے لہجے کی دلنشینی کا سحر طاری ہوا سماعت پر عہدِماضی کے آشیانے سے فاختائیں حسین یادوں کی ذہن کی ملگجی فضاؤں میں پرکُشاہو گئی مسرت سے آہٹوں دستکوں کی شدت سے روح بیتاب ہوتی جاتی ہے ہمنوا سوچنے تو دے مجھ کو ہمنوا سوچنے تو دے مجھ کو سانس بے ربط ہوتی جاتی ہے دھڑکنیں تیز تر ہیں سینے میں…
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ سنا ہے حال ترے کشتگاں بچاروں کا
سنا ہے حال ترے کشتگاں بچاروں کاہوا نہ گور گڑھا اُن ستم کے ماروں کا ہزار رنگ کھلےگل چمن کے ہیں شاہدکہ روزگار کے سر خون ہے ہزاروں کا ملا ہے خاک میں کس کس طرح کا عالم یاںنکل کےشہر سے ٹک سیر کر مزاروں کا عرق فشانی سے اُس زلف کی ہراساں ہوںبھلا نہیں ہے بہت ٹوٹنا ہے تاروں کا علاج کرتے ہیں سودائے عشق کا میرےخلل پذیر ہوا ہے دماغ یاروںکا تری ہی زلف کو محشر میں ہم دکھاویں گےجو کوئی مانگے گا نامہ سیاہ کاروں کا تڑپ…
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔ دریا اتھلے پانی میں کیا کرتے ہیں
دریا اتھلے پانی میں کیا کرتے ہیںتنکے اس طغیانی میں کیا کرتے ہیں پتھر ہیں تو شیش محل پر جائیں نا!گھاؤ مِری پیشانی میں کیا کرتے ہیں تنگی میں وہ سجدے کرتے رہتے تھےدیکھیں تن آسانی میں کیا کرتے ہیں رہنے دیں ویرانے کو ویرانہ ہیدیوانے نادانی میں کیا کرتے ہیں سب اچھے لگتے ہیں اپنی کرسی پرچاند ستارے پانی میں کیا کرتے ہیں کھِلتے ہیں وہ ، حیرانی میں دنیا ہےپھول یہاں ویرانی میں کیا کرتے ہیں
Read More