جلیل عالی ۔۔۔ رہ کوئی نکالی بھی تو کیا اپنا ہنر ہے

رہ کوئی نکالی بھی تو کیا اپنا ہنر ہے تقدیر سے تقدیر کی جانب ہی سفر ہے سب رنج و مصائب کا سبب اپنی خطائیں ہر راحتِ جاں تاب کا سہرا ترے سر ہے توڑا ہے زمانے کے حصاروں کو کئی بار پر ذات کے غاروں سے کہاں ہم کو مفر ہے پہچان ستارے تو گئے ہاتھ سے سارے اک خواب سہارا بھی نہ چھن جائے یہ ڈر ہے تاراج کیے اُس نے جنوں خیز حوالے اب سوچ اجالوں کی طرف اس کی نظر ہے اک سمت محبت ہے اور…

Read More

جلیل عالی ۔۔۔ سُنی نہ اُس نے کبھی شہرِ مبتلا کی کتھا

سُنی نہ اُس نے کبھی شہرِ مبتلا کی کتھا سنائے جاتا ہے اک کھوکھلی رِجا کی کتھا کسی کی وحشتِ دل میں گنوا گیا کوئی جاں الگ دِیے کی کہانی ، جدا ہوا کی کتھا پسِ حجابِ عبارت بھی غور سے دیکھیں کہ اور بھی کوئی ہوتی ہے ہر کتھا کی کتھا کیے ہوئے ہیں ہمیں اپنی منطقوں کا اسیر مجھے ضمیر کا قصہ، اُسے انا کی کتھا الم نصیب ہوئے دردِ مشترک میں قریب تھی منفرد بھی ہر اک فردِ بے نوا کی کتھا درونِ ذات بھی میں حالتِ…

Read More

خاور اعجاز ۔۔۔ ہائیکو تراجم(Jane Reichhold)

A spring nap Downstream cherry trees in bud موسمِ گل میں نیند کی چھپکی جیسے موجود ہوں شگوفوں میں لبِ دریا درخت چیری کے Long hard rain Hanging in the willows Tender new leaves سردیوں کی طویل بارش میں پیڑ پر جھولتے ہوئے قطرے تازہ پتّوں کا پیش خیمہ ہیں Ancestors The wild plum blooms again آبأ و اجداد جنگلی آلوچے جیسے پھِر سے کھِل اُٹھیں Moving into the sun The pony takes with him Some mountain shadow سورج میں چلتے گھوڑا لے گیا اپنے ساتھ پربت کا سایہ

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ خاور اعجاز

وہ فاصلہ ہے کہ لمحہ بھی سال ہے آقاؐ مدینہ دُور ہے ، اِس کا ملال ہے آقاؐ خراب حال ہیں اقوام بالعموم ، مگر خراب تر تِری اُمت کا حال ہے آقاؐ مگر بھُلائے ہُوئے ہیں اصولِ راہبری اگرچہ سامنے تیری مثال ہے آقاؐ سوائے ایک تمنائے حاضری ، مجھ پاس نہ زادِ راہ نہ مال و منال ہے آقاؐ سیاہ کار کے چہرے پہ نور آ جائے کرم کی ایک نظر کا سوال ہے آقاؐ

Read More

ایمان قیصرانی ۔۔۔ تنہا تھی کل تو مثلِ بہتر حسینیت

تنہا تھی کل تو  مثلِ  بہتّر حُسینیتاور آج صف بہ صف ہوئ لشکر حُسینیت زینب سی شاہزادی کا فخر و غرور بھیمجھ بے ردا کنیز کی چادر حُسینیت صدیاں گواہ ، اور ہے تاریخ مُعترفقائم ہے مثل ِ شجر ِ تناور حُسینیت "کشمیر "اور "ڈل” کے کناروں پہ دیکھئےکیسے کھڑی ہے آج بھی ڈٹ کرحُسینیت محشر تلک رہے گی محمد کے عشق میںلے کر متاع ِ جان نچھاورحُسینیت ہر دور ِجور و جبر میں ظالم کےسامنےصدیوں کی خامشی میں سُخنور حُسینیت ایماں سکون وصبر و قناعت کے ساتھ ساتھکرب و…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ یہاں تنگی ٔقفس ہے، وہاں فکرِ آشیانہ

یہاں تنگی ٔقفس ہے، وہاں فکرِ آشیانہ نہ یہاں مرا ٹھکانہ، نہ وہاں مرا ٹھکانہ   مجھے یاد ہے ابھی تک ترے جور کا فسانہ جو میں راز فاش کر دوں تجھے کیا کہے زمانہ   نہ وہ پھول ہیں چمن میں نہ وہ شاخِ آشیانہ فقط ایک برق چمکی کہ بدل گیا زمانہ   یہ رقیب اور تم سے رہ و رسمِ دوستانہ ابھی جس ہوا میں تم ہو وہ بدل گیا زمانہ   مرے سامنے چمن کا نہ فسانہ چھیڑ، ہمدم! مجھے یاد آ نہ جائے کہیں اپنا…

Read More

نعمان فاروق … سالگرہ

سالگرہ نہ تو ہجر کا سورج ڈھلنانہ ہی وصل کی رات ہے آنیآنکھوں کی دہلیز نہ چھوڑےاجڑے خوابوں کی ویرانیچاہت غم کا راج بھنور ہےسو باتوں کی ایک کہانیوہ اک سندر ناری جس کےدم سے ہے یہ ریت پرانیاس کو خبر یہ کب ہوتی ہےدھرتی کے سینے پر میریپہلی صدا کا پہلا دن تھااس کو خبر بھی ہو جائے تونہ سندیس کوئی بھیجے گینہ ہی اس کی کال ہے آنیپھر کیا سوچ کے یارو ہم نےاب سالگرہ کی شام منانی

Read More