ممتاز راشد لاہوری ۔۔۔ گھر گھر رہتی ہے یہ بات

گھر گھر رہتی ہے یہ بات کب تک سُدھریں گے حالات وائرس میں اتنی اموات توبہ توبہ ہے ، ھَیہات کیا ہو گا انجام آخر؟ سوچتے رہتے ہیں دن رات ابرِ اَلم چھٹ جانے دو پھر سے گونجیں گے نغمات رُسوائی سے بچنے کو گھر میں رکھیے گھر کی بات پیڑ لگاؤ ، مت سوچو کون سمیٹے گا ثمرات کھا جائیں گے تَن مَن دَھن بڑھتے ہوئے یہ اخراجات اُن کے دعوے ہیں جھُوٹے بے بنیاد ہیں الزامات آپ ریاست کے والی آپ کے آگے ہم حشرات کم ہے کتابِ…

Read More

محمد نوید مرزا ۔۔۔ غزل کے رنگ سچّے ہیں (شکیب جلالی کے ایک نظم)

غزل کے رنگ سچّے ہیں (شکیب جلالی کے ایک نظم) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُسے ہر شعر میں اپنے تخیل کو نئے مفہوم سے آراستہ کرنے کا یارا تھا وہ اک ایسا ستارا تھا کہ جس کی روشنی میں اک صدی کے بعد بھی کرنیں اُبھرنی تھیں غزل کو تازگی کے حسن سے اُس نے نوازا تھا بہت سے زخم تھے جو ذہن کی بھٹی میں ڈالے تو نئے اشعار نکلے تھے جو اُس کی روح تک پھیلے ہوئے ہر کرب کا اظہار نکلے تھے اُسی نے اس شکستہ زندگی میں بوجھ برسوں…

Read More

تصور اقبال ۔۔۔ غبارِ زندگانی ہے ہوا سے اُڑ بھی سکتا ہے

غبارِ زندگانی ہے ہوا سے اُڑ بھی سکتا ہے پریشانی کے عالم میں خُدا پر ایک تکیہ ہے بہتر تن دیے تھے کربلا میں دین کی خاطر خیالِ خام ہے تیرا کہ پانی آج سستا ہے چھپا رکھا ہے ہر اک راز سینے میں جہاں والو ہمارا دل حقیقت میں سمندر سے بھی گہرا ہے خدا توفیق دے گر تو بھلائی کر خدائی سے خدا کے ہاں صلہ اس کا توقع سے زیادہ ہے اسے پڑھ کر اٹھائو لطف آخر تم بھی شاعر ہو مری تازہ غزل سچ مُچ تصور…

Read More

جمیل یوسف ۔۔۔ دعا

مرے سفر کا یوں ہی اختتام ہو جائے ترے دیار سے گزروں تو شام ہو جائے یہ لطفِ خاص ہو مجھ پر بھی اے مرے آقاؐ ترے غلاموں میں میرا بھی نام ہو جائے کرم ہو آقاؐ! مرا دیس بھی مدینہ بنے جو کام ہو نہیں پایا ، وہ کام ہو جائے یہ سرزمین بھی جنت سے کم نہیں ہے اگر یہاں ہر آدمی کا احترام ہو جائے ہر ایک شخص ہو حضرت معاذؓ کی مانند تو حُسنِ فکر و عمل شاد کام ہو جائے وہی نظام جو سارے جہاں…

Read More

سید قاسم جلال ۔۔۔ اظہار محال ہو گیا ہے

اظہار محال ہو گیا ہے احساس وبال ہو گیا ہے اب کچھ تو جواب دے زمانہ ہر چہرہ سوال ہو گیا ہے دل کی ہے اُڑان اب بھی جاری گو بے پر و بال ہو گیا ہے خوشیوں کو تلاش کرتے کرتے دل وقفِ ملال ہو گیا ہے ہر ایک جھپٹ رہا ہے جیسے سُکھ لُوٹ کا مال ہو گیا ہے میرے تری آنکھ میں ہیں آنسو اے دوست! کمال ہو گیا ہے محجوب نگاہ ہو گئی ہے مستور جمال ہو گیا ہے وارث کو تو خوں بہا ملا کچھ…

Read More

محمد انیس انصاری ۔۔۔ پانی ہے ، تو دریا ہے

پانی ہے ، تو دریا ہے سوکھ گیا تو صحرا ہے اس کا نام محبت ہے اُس نے پلٹ کر دیکھا ہے اُس کے بدن کی خوشبو ہے سارا کمرہ مہکا ہے یہ آنا ، کیا آنا ہے، بادل وہ ، جو برسا ہے پیچھے میرے ، ٹریفک جام آگے سڑک پہ دھرنا ہے اہلِ تکاثر سے کہہ دو عزّت ہی سرمایہ ہے پہلے وعدہ کرنا ہے اگلا کام مُکرنا ہے بربادی کے قصّے میں کِس کا کتنا حصہ ہے اُس نے خط میں جانِ انیس! اپنا نام ہی لکھّا…

Read More

بشیر احمد حبیب ۔۔۔ تمہارا ساتھ ہے تو روشنی سے نسبتیں ہیں

تمہارا ساتھ ہے تو روشنی سے نسبتیں ہیں تمہارے وصل سے پیدا یہ کیسی رفعتیں ہیں بنے ہیں جو ستارے استعارہ منزلوں کا تمہاری وسعتوں میں کچھ یہ میری حیرتیں ہیں تمہارے نقش پا نے جو مرتب کر دیے ہیں وہ رستے ہی ہماری جستجو کی منزلیں ہیں ہمارے حرف کیا ہیں اور ہماری فکر کیا ہے دل و جاں میں سرایت خوبصورت صورتیں ہیں ترے پیہم تغافل نے یہ ثابت کر دیا ہے کسی کی سوچ میں رہنا بھی گویا قربتیں ہیں ہزاروں میں ہمیں کو یوں نظر انداز…

Read More

شاہد ماکلی ۔۔۔ ہیولہ گزرے گا جسموں کے آر پار مرا

ہیولہ گزرے گا جسموں کے آر پار مرا کہ انحراف کا عنصُر ہے تاب کار مرا نہار و لیل کے وقفے میں چلتا رہتا ہے سمے میں لا پتہ ہونے کا اشتہار مرا بلند ہونے لگی سطح ، دل کے دریا کی پگھلتا جاتا ہے باطن کا برف زار مرا نظامِ وقت مرا ہَیک کر لیاگیا ہے چُرا لیا گیا صدیوں کا اعتبار مرا کبھی حقیقتِ اشیا نہ کھل سکی مجھ پر حواسِ خمسہ پہ جب تک تھا انحصار مرا نگر میں قحط پڑا ، جنگلوں میں آگ لگی کُرہ…

Read More

عمر قیاز قائل ۔۔۔ اب نہ گزرے ہُوئے ماضی کو صدائیں دینا

اب نہ گزرے ہُوئے ماضی کو صدائیں دینا اِس دبی آگ کو ہرگز نہ ہَوائیں دینا نفرتیں بڑھ گئیں اِس تیری زمیں پر زِیادہ اے خُدا میرے مجھے اور خَلائیں دینا اُس کاہے طرزِ تغافل تو دِل آزار بہت کام اپنا ہے مگر اُس کو دُعائیں دینا اے خُدا! اَگلے جَنم پر ہے تمنّا میری بے لباسی کو مرے اور قبائیں دینا جانتا ہُوں کہ نہیں لوٹ کے آنے والا میری عادت ہے اُسے پھر بھی صدائیں دینا حرفِ دُشنام ہے مقسوم سدا سے اپنا کارِ آسان نہیں ہم کو…

Read More

عمر قیاز قائل ۔۔۔ تیرے چمن میں پُھول ہیں میرے چمن میں آگ

تیرے چمن میں پُھول ہیں میرے چمن میں آگ تیرا شریر برف مرے تن بدن میں آگ تیری جوانیاں گلِ تازہ کی ہم رِکاب میرے وطن کی دُلہنوں کے بانکپن میں آگ تیری ہنسی میں نغمگی، نغموں کی جلترنگ میرے لبوں پہ غم مرے سارے بدن میں آگ تیرے بَنوں میں سُرخ محبت کے ہیں گُلاب ہر شے جلا رہی ہے مگر میرے بَن میں آگ پھیلیں گے اُس کے شُعلے تِری انجمن تلک تُو نے کہ جو لگائی ہے میرے چمن میں آگ شُعلہ بجاں تھے شُعلہ بجاں عمر…

Read More