آصف شہزاد … چند لمحے وصال موسم کے

چند لمحے وصال موسم کے درد کی ایک بے کراں رُت ہے حبس موسم کا راج ہر جانب چند لمحے وصال موسم کے! وہ نشیلی غزال سی آنکھیں کوئی خوشبو سیاہ زلفوں کی لمس پھر وہ حنائی ہاتھوں کا کوئی سرخی وفا کے پیکر کی! پھر سے شیریں دہن سے باتیں ہوں دل کی دنیا اداس ہے کتنی کوئی منظر بھی اب نہیں بھاتا چند لمحے وصال موسم کے!

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ اس محبت کے دئیے کرب کے پہلو کتنے

اس محبت کے دئیے کرب کے پہلو کتنےدرد جاگے، تو جگا جاتا ہے آنسو کتنے اپنی مٹھی میں لیے اورمرے رستوں کےدیکھ! سورج نے فنا کر دئیے جگنو کتنے زندگی جون کی جب دھوپ بنی،یاد رہےسایہ سایہ سے ہمہ وقت تھے گیسو کتنے آنکھ جھپکی تھی، خطا تھی کہ کوئی بھول سی تھی روز اِس رو ح کے عنقا ہوئے آہو کتنے کتنے ظالم ہیں گزرتے ہوئے ایّام کہ اب آئنہ توڑ کے خوش باش ہیں کم رو کتنے ذات میری ہو کہ تیری، ہے یہاں بکھری پڑی ہم محبت…

Read More

ارشد عباس ذکی … نظم

کہیں ملے تو اسے بتانا کہ زندگی میں بہت سی چیزیں بدل گئی ہیں اگر کہوں کہ یہ زندگی ہی بدل گئی ہے ۔۔۔۔۔۔ غلط نہ ہو گا نئے سِرے سے میں اس کو ترتیب دے رہا ہوں مگر یہ کیسا طلسم ہے کہ میں جس سِرے کو بھی چھیڑتا ہوں اُلجھ رہا ہے ۔۔۔۔۔ میں زندگی کے اس امتحاں سے گزر رہا ہوں جہاں پہ ہر روز آرزوؤں کا خون اپنی جبیں پہ مَلنا نصیب ٹھہرا مگر میں پھر بھی ۔۔۔ کٹے پھٹے ہونٹ، منتشر سوچ، اداس آنکھوں میں…

Read More

ارشد محمود ارشد ۔۔۔ دو غزلیں

جھوٹی شان و شوکت چھوڑ لے ڈوبے گی شہرت ، چھوڑ لافانی کے بارے سوچ فانی دہر کی رغبت چھوڑ پھولوں کی بھی چاہت کر کانٹوں سے بھی نفرت چھوڑ حد میں رہ کر جینا سیکھ جذبوں کی یہ شدت چھوڑ خرچ ہوئی تو کیا غم ہے ہاتھ کا میل ہے دولت چھوڑ اٹھ اب پرچم تھام کے رکھ مشکل وقت ہے غفلت چھوڑ ارشد بس اک بھول ہوئی حکم ہوا کہ جنت چھوڑ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سرد موسم میں ہَوا تو نہیں مانگی جاتی چھت ٹپکنے پہ گھٹا تو نہیں مانگی…

Read More

اقبال سروبہ ۔۔۔ بظاہر اور ہی کچھ تھا رُخِ انوار کا موسم

بظاہر اور ہی کچھ تھا رُخِ انوار کا موسم نظر کو کر گیا حیراں پِس دیوار کا موسم چراغِ طُور بن کر یہ ترے افکار چمکیں گے کبھی تو یاد آئے گا ترے کردار کا موسم کبھی روٹی، کبھی چادر، کبھی گردابِ ہستی میں بڑا ہی تلخ ہوتا ہے یہاں فنکار کا موسم غموں کی دُھوپ، ظلمت، بے نوا یادوں کی تنہائی بڑی مُدّت تلک ٹھہرا ترے انکار کا موسم یہی اِک فلسفہ اقبال ؒ کا، اقبال نے سمجھا خزاں کی زد پہ رہتا ہے ہمیشہ پیار کا موسم

Read More

لبنیٰ مقبول غنیم ۔۔۔۔ ناصحوں میں عجیب ہے اَن بَن

ناصحوں میں عجیب ہے اَن بَن واعِظوں میں عجیب ہے اَن بَن ساتھ بیٹھے ہیں اور ساتھ نہیں دوستوں میں عجیب ہے اَن بَن سوگواری کو بھی یہ الجھن ہے وحشتوں میں عجیب ہے اَن بَن اَن سنی سی پکار منزل کی راستوں میں عجیب ہے اَن بَن حوصلے ٹوٹنے نہ پائیں بس ڈوریوں میں عجیب ہے اَن بَن پانِیوں کی بغاوتوں کا خوف ساحِلوں میں عجیب ہے اَن بَن راج ہے اب غنیم کا ہی یہاں رہبروں میں عجیب ہے اَن بَن

Read More

نفیس فاروق ۔۔۔ یہ ہجر تو کب برپا قیامت نہیں کرتا

یہ ہجر تو کب برپا قیامت نہیں کرتالیکن میں کبھی تجھ سے شکایت نہیں کرتا قرطاس کو میں اپنا الم سونپ دوں کیسےکیا لفظ مِرے دُکھ کی وضاحت نہیں کرتا انصاف نہیں اس کو ملا ہو گا مسلسلیوں ہی کوئی توہینِ عدالت نہیں کرتا ہے مسئلہ ایسا کہ ہر اِک اہلِ سیاستتوہین تو کرتا ہے ، سیاست نہیں کرتا ظالم کی مدد کو تو نکلتے ہیں ہزاروںمظلوم کی کوئی بھی حمایت نہیں کرتا جو لوگ سکوں اوڑھ کے سوئے ہیں سمجھ لیںمٹ جاتا ہے ، جو شخص ریاضت نہیں کرتا

Read More

نفیس فاروق ۔۔۔ غزل در غزل جو کہی جا رہی ہے

غزل در غزل جو کہی جا رہی ہے اذیت مسلسل سہی جا رہی ہے ریاست بنی تھی مدینہ کی خاطر بنامِ مدینہ لُٹی جا رہی ہے بناکر بھکاری سیاسی لٹیرے کہیں گے ، ارے ! بے بسی جا رہی ہے غریبوں کو بہلانے کے واسطے پھر حکایت نئی اِک گھڑی جا رہی ہے حسین و حسن پر ستم جب سے ٹوٹا صدی جو بھی ہے ماتمی جا رہی ہے

Read More